ایک حیرت انگیز تاریخی واقعہ

ایک حیرت انگیز تاریخی واقعہ


 تابعی عالم عثمان بن عطاء الخراسانی بیان کرتے ہیں: “میں اپنے باپ کے ہمراہ خلیفہ ہشام بن عبد الملک کو ملنے کے لیے جا رہا تھا۔ جب ہم دمشق کےپاس پہنچے تو ہم نے ایک ضعیف شخص کو دیکھا جو ایک سیاہ گدھے پر سوار تھا۔ اس کے جسم پر موٹا اور کھردرا قمیص تھا، ایک پرانی سی چادر تھی، سر پر سادہ سی ٹوپی چپکی ہوئی تھی اور رکابیں لکڑی کی تھیں۔میں اسے دیکھ کرمسکرادیا اور اپنے والد سے پوچھا: ‘یہ کون ہے؟’ میرے باپ نے فوراً مجھے چپ کرایا اور کہا: ‘چپ رہو! یہ حجاز کے سب سے بڑے فقیہ اور عالم عطاء بن ابی رباح ہیں۔

’ جب وہ ہمارے قریب آئے تو میرے والد اپنی خچر سے اتر گئے اور عطاء بن ابی رباح بھی اپنے گدھے سے اترے۔ دونوں نے ایک دوسرے کو گلے لگایا، خیریت دریافت کی، پھر اپنی سواریوں پر سوار ہوئے اور چلتے ہوئے خلیفہ کے محل کے دروازے تک پہنچ گئے۔ جب وہ خلیفہ ہشام بن عبد الملک کے محل کے دروازے پر پہنچے تو تھوڑی دیر میں اندر جانے کی اجازت مل گئی۔ جب میرے والد واپس آئے تو میں نے ان سے پوچھا کہ اندر کیا ہوا۔ انہوں نے بتایا: ‘جب خلیفہ کو معلوم ہوا کہ عطاء بن ابی رباح دروازے پر موجود ہیں تو انہوں نے فوراً انہیں اندر بلایا۔ اللہ کی قسم! میں تو صرف انہی کی وجہ سے اندر جا سکا۔
ایک حیرت انگیز تاریخی واقعہ

ایک حیرت انگیز تاریخی واقعہ




 جب عطاء بن ابی رباح اندر داخل ہوئے تو خلیفہ نے بڑے احترام سے کہا: “خوش آمدید… خوش آمدید… ادھر آئیے، ادھر آئیے!” یہ کہتے کہتے انہوں نے انہیں اپنے تخت پر اپنے پاس بٹھا لیا یہاں تک کہ ان کا گھٹنا خلیفہ کے گھٹنے سے لگ گیا۔ اس وقت دربار میں بڑے بڑے سردار اور معزز لوگ موجود تھے اور آپس میں باتیں کر رہے تھے، مگر جیسے ہی عطاء بن ابی رباح اندر آئے سب خاموش ہو گئے۔’ پھر خلیفہ نے کہا: ‘اے ابو محمد! آپ کی کیا ضرورت ہے؟’ عطاء بن ابی رباح نے کہا: ‘اے امیر المؤمنین! مکہ اور مدینہ کے لوگ اللہ کے گھر کے رہنے والے اور رسول اللہ ﷺ کے پڑوسی ہیں، ان کے وظائف اور عطیات مقرر کیے جائیں۔’ خلیفہ نے فوراً حکم دیا: ‘اے غلام! لکھ لو کہ مکہ اور مدینہ کے لوگوں کے لیے ایک سال کے وظائف اور عطیات جاری کیے جائیں۔

’ پھر خلیفہ نے پوچھا: ‘کیا اور کوئی ضرورت ہے؟’ انہوں نے کہا: ‘ہاں! حجاز اور نجد کے لوگ عربوں کی اصل اور اسلام کے قائد ہیں، ان کی صدقات میں سے بچ جانے والی رقم انہی کو واپس دی جائے۔’ خلیفہ نے کہا: ‘اے غلام لکھ لو کہ صدقے کا اضافی والا حصہ انہیں واپس کر دیا جائے۔’ سرحدوں کے مجاہدین کے لیے درخواست پھر انہوں نے کہا: ‘اے امیر المؤمنین! سرحدوں پر موجود مجاہدین دشمن کے مقابلے میں کھڑے ہیں، ان کے لیے باقاعدہ وظائف مقرر کریں، کیونکہ اگر وہ کمزور ہو گئے تو سرحدیں ضائع ہو جائیں گی۔

 خلیفہ نے فوراً حکم دیا
ان کے لیے وظائف جاری کیے جائیں۔’ پھر عطاء بن ابی رباح نے کہا: ‘اے امیر المؤمنین! آپ کی حکومت میں رہنے والے یہودی اور عیسائی اہلِ ذمہ کو ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ دیا جائے، کیونکہ ان سے لیا جانے والا خراج دراصل آپ کی دشمنوں کے خلاف مدد ہے۔’ خلیفہ نے حکم دیا: ‘تحریرکر لو ذمہ داروں کو ان کی حیثیت سے زیادہ صعوبت نہ دی جائے۔’ پھر خلیفہ نے پوچھا: ‘اے ابو محمد! کیا اور کوئی ضرورت ہے؟’ عطاء بن ابی رباح نے فرمایا: ‘ہاں! اے امیر المؤمنین! اپنے بارے میں اللہ سے ڈرو۔ یاد رکھو کہ تم اکیلے پیدا ہوئے ہو، اکیلے مرو گے، اکیلے اٹھائے جاؤ گے اور اکیلے ہی حساب دو گے۔ ان لوگوں میں سے کوئی تمہارے ساتھ نہ ہوگا۔’ یہ سن کر خلیفہ ہشام بن عبد الملک زمین کی طرف دیکھنے لگے اور ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ جب عطاء بن ابی رباح محل سے باہر نکلے تو ایک شخص ان کے پیچھے آیا اور ایک تھیلی پیش کرتے ہوئے کہا: ‘یہ امیر المؤمنین آپ کے لیے تحفہ بھیجا ہے۔’ انہوں نے فرمایا: “ہرگز نہیں! میں تم سے اس پر کوئی اجر نہیں مانگتا، میرا اجر تو صرف رب العالمین کے پاس ہے۔” پھر وہ چلے گئے۔
راوی کہتے ہیں: اللہ کی قسم! وہ خلیفہ کے پاس جاکر لوٹ آئے پانی بھی نہیں پیا عطاء بن ابی رباح (تقریباً ۲۷ ہجری / ۶۴۷ء – ۱۱۴ ہجری / ۷۳۲ء) مکہ کے عظیم تابعی اور فقہائے حجاز کے امام تھے۔ وہ اصل میں حبشی غلام تھے مگر علم اور تقویٰ کی وجہ سے اس قدر بلند مقام پر پہنچے کہ خلفاء اور امراء بھی ان کے سامنے ادب سے بیٹھتے تھے۔ یہ واقعہ غالباً اموی دور کے وسط میں پیش آیا، جب ہشام بن عبد الملک (حکومت ۱۰۵ھ تا ۱۲۵ھ / ۷۲۴ء تا ۷۴۳ء) خلافت کے تخت پر تھے اور دمشق اموی خلافت کا دارالحکومت تھا۔ اس واقعے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اسلام کی تاریخ میں علماء کا مقام اقتدار سے بھی بلند سمجھا جاتا تھا اور سچے علماء حکمرانوں کے سامنے حق بات کہنے سے نہیں ڈرتے تھے۔

 حوالہ جات: سیر اعلام النبلاء ،امام ذہبی

Post a Comment

0 Comments