سرخ کنول
تحریر: کیرن جوئے فاؤلر(امریکا) مترجم: نبراس سہیل (متحدہ عرب امارات)
ایک دن للی نے فیصلہ کیا کہ وہ کوئی اور ہی روپ دھارن کر لے گی ۔ایک ایسا روپ کہ جس کا اپنا ماضی ہو ۔۔۔ یہ خواہش اب اس کی تڑپ بن چکی تھی۔ کوئی ایسا حادثہ ہی درپیش نہ آتا ، نہ ہی کوئی ایسی شکایت زور پکڑتی جو اسے کسی سفر پہ لے چلتی۔۔ جب بھی کوئی ٹرین گزرتی وہ ایسا ہی محسوس کیا کرتی کہ کاش وہ ٹرین پہ کسی بھی شخص کے ساتھ کسی بھی منزل پہ اتر سکتی۔۔ ۔ وہ ایسا ہی گاڑی چلاتے ہوئے بھی سوچا کرتی ۔ آج جب وہ اپنے گھر اور دفتر کے بیچ شاہراہ پہ پہنچی ، تو اسی سوچ میں گم وہ اپنے ایگزٹ سے آگے نکل گئی ۔ گاڑی کی گیس ختم ہو جا نے پر اس نے ایک چھوٹے سے قصبے میں گاڑی روکی ۔۔وہ جانتی تھی کہ اب اسے کیا کرنا ہے اور پھر اُس نے بالکل ویسا ہی کیا۔ انوکھی بات یہ ہوئی کہ اسے راستے میں پولیس نے روک لیا۔ وہ شہر سے خاصی دور نکل آئی تھی۔رستے میں کئی شہر آئے جن سے وہ گزر گئی ۔ اب آسمان گہرا ہو چلا تھا۔ زمین کی سطح بھی ہموار ہو چکی تھی۔
اور وہ ایسے پرکیف سرور میں تھی جہاں اب وہ اور اس کی گاڑی ہیڈلائٹ کی مرہون منت ایک چھوٹی سی خوابوں کی دنیا کے مسافر تھے ۔ ایسے میں یوں اچانک رکنا اس کے لئے ایک دھچکے سے کم نہ تھا۔ وہ بدستور اپنی گاڑی میں بیٹھی رہی جبکہ پولیس کی گاڑی کی بتی اس کے پیچھے گول گول گھوم رہی تھی۔ وقفے وقفے سے اسے سٹئیرنگ پہ رکھے اپنے ہاتھ سرخ ہوتے دکھائی دے رہے تھے۔ا س سے پہلے اسے کبھی پولیس نے نہیں روکا تھا ۔ عقبی شیشے سے اسے پیچھے دکھائی دے رہا تھا۔۔پولیس والا ریڈیو پہ کسی سے بات کر رہا تھا۔اس کا دروازہ تھوڑا سا کھلا تھا اور گاڑی کی بتی جل رہی تھی۔ وہ گاڑی سے اترا اور اس سے بات کرنے اس کے پاس چلا آیا۔ للی نے اپنی گاڑی بند کر دی۔ ’خاتون‘ ۔وہ بولا ۔۔للی حیران ہوئی کہ پولیس والوں کو ’خاتون‘ کہتے ت اس نے ٹی وی پہ ہی سنا تھا ، اب اصل پولیس والے کے ایسا کہنے پہ وہ سوچنے لگی کہ کیا اس نے بھی ایسا ٹی وی دیکھ کر سیکھا ہے۔ ـ ’ خاتون، آپ اُڑی جا رہی تھیں۔میں نے آپ کو اسّی کی رفتار پہ پکڑا ہے ۔‘ اسّی۔۔ ۔ للی خود سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی ۔۔۔ وہ اپنی معمول کی رفتار سے پچیس میل فی گھنٹہ زیادہ تیز تھی اور اسے اس بات کا احساس تک نہ ہوا تھا۔۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ تیز رفتار ی سے نبرد آزما ہو نے کی صلاحیت رکھتی تھی۔۔’اسّی‘ ۔۔اس نے خجالت سے کہا۔۔’ پتہ ہے کیا ۔۔ مجھے اب کیا کرنا چاہئے ؟۔ میں اصل میں بہت دیر سے گاڑی چلا رہی ہوں ۔ مجھے اب ایک ایسی جگہ چاہئے جہاں میں آج کی رات گزار سکوں ۔ ہاں، میرا خیال ہے یہ ٹھیک رہے گا۔۔ اسّی، یعنی کے۔۔ یہ تو بہت تیز رفتار ہے۔۔
آپ کو نہیں لگتا؟ ‘ ’ جی بالکل ایسا ہی ہے۔‘ پولیس والے نے اپنی جیکٹ کی اندر والی جیب سے قلم نکالا ۔ ’ اب آگے سے ایسا نہیں ہو گا۔۔‘ للی نے اس سے کہا۔۔’ پلیز مجھے ٹکٹ نہ دیجئے گا۔۔‘ ’ میں آپ کو ٹکٹ دیئے بغیر چھوڑ دوں ‘۔۔ پولیس والا بولا۔۔’ اور کل کے اخبار میں پڑھوں کہ آپ اس دیوار سے جا ٹکرائیں ہیں جو یہاں سے کچھ زیادہ نہیں، صرف پندرہ میل پر ہے۔۔میں نہیں سمجھتا میں ایسا کر سکتا ہوں۔۔اپنا لائسنس دیجیئے ۔۔ پلیز ، والٹ سے لائسنس نکالئیے ۔۔ میٹی ڈریک ایک چھوٹا سا سرائے چلاتی ہیں بیڈ ۔اینڈ۔ بریکفاسٹ کے نام سے ، ’ٹُو ٹریز‘ میں۔۔ یہاں سے اگلے ایگزٹ سے بائیں مڑ جایئے گا۔۔ پہلا دایاں موڑ پھر ایک دائیں ہاتھ موڑ۔۔وہ سڑک میٹی کے ڈرائیو وے پہ ہی ختم ہوتی ہے ۔۔اس کے لان کے باہر تختی لگی ہے ، ۔’میٹیز‘ کے نام کی۔۔۔ رات کے اس پہر بھی وہاں کی ساری بتیاں روشن گی۔۔ اچھی جگہ ہے اور آف سیزن میں زیادہ مہنگی بھی نہیں ۔۔‘ اس نے للی کو اس کا لائسنس واپس کیا اور ساتھ ہی دستخط کرنے کے لئے ٹکٹ بھی دیا۔۔پولیس والے نے اپنی کاپی لی اور بولا ۔ ـ’ اچھی نیند لیجئے گا رات میں ‘۔۔ للی کو اس خاموشی میں، بکھرے ہوئے پتھروں پہ چل کے دور جاتے اس کے جوتوں کی آواز سنائی دی ۔۔
اس نے ٹکٹ چرر مرر کی اور اسے گاڑی کے جیبوں والے خانے میں ٹھونس دیا ۔۔اب وہ اس کے جانے کا انتظار کرنے لگی۔۔ پولیس والے نے گھومنے والی بتی بند کی، ہیڈ لائیٹیں جلائیں، اور اس کے لئے رکا رہا ۔ وہ اگلے ایگزٹ تک تمام رستے اس کے پیچھے آتا رہا۔ للی کو یہ برداشت کرنا پڑا۔
میٹیز لان پہنچ کر للی نے گاڑی ایک طرف کھڑی کی۔۔ سائن بورڈ اور پورچ میں پتنگے روشنی کا طواف کر رہے تھے۔ اس دھندلکے سے ایک بڑا سفید الّو نمودار ہوا۔۔۔نیچے سے پڑتی روشنی کی بدولت وہ کسی فرشتے کا ہیولا سا محسوس ہوا۔۔۔ ایک جھینگر کہیں سے اس کی لینن کی قمیض پہ آ گرا۔۔ اچانک ہی گھاس کو پانی دینے والے فوارے چل پڑے ۔۔۔ پانی کی سرسراتی آواز نے کیڑوں کی بھنبھناہٹ غائب کر دی ۔۔۔ دروازے تک جانے والی ر اہداری خشک تھی۔۔ ۔ للی نے روشن پورچ میں پہنچ کر گھنٹی بجا دی۔
جس عورت نے دروازہ کھولا اس نے نیلی جینز اور فلالین کی کرتی پہن رکھی تھی۔ اس کے کولہے عمر رسیدہ عورتوں کی طرح پھیلے ہوئے تھے مگر اس کے بالوں میں سفیدی خال خال تھی، صرف ماتھے پہ ایک لٹ ۔۔۔ ’ ڈارلنگ۔اندر آ جاؤ ، ۔۔وہ بولی۔ اس کی آواز میں جنوبی علاقوں والی ہلکی سی مٹھاس تھی۔۔ ’ لگتا ہے بہت تھکی ہوئی ہو۔۔ کمرہ چاہئے؟ تم بھی غاروں کی سیر کو آئی ہو؟ ۔۔میں میٹی ہوں۔۔‘
’ جی ہاں، ‘ للی نے کہا۔۔’ مجھے کمرہ چاہئے ۔۔میں کچھ لوگوں سے ملی جو پچھلے سال یہاں آئے تھے ۔۔ ان لوگوں نے مجھے بتایا کہ یہاں کی غاریں دیکھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔‘
’ میں کیتھرین سے کہہ دوں گی وہ ساتھ لے جانے کے لئے تمہیں کھانا بھی تیار کر دے گی۔۔‘ میٹی نے پیشکش کی۔۔’ آجکل کوہ پیمائی کے لئے خوبصورت موسم ہے۔۔ آجکل اتنی گرمی نہیں لگتی جتنی کہ گرمیوں کے موسم میں۔۔ تم کل جا سکتی ہو۔۔‘
للی نے اس سے فون لیا تا کہ ڈیوِڈ کو کال کر سکے۔۔ فون ایک چھوٹی سی میز پر پڑا تھا جس کی ایک طرف شیشے کی گیند میں سرخ گلاب کی کلی گویا برف میں جمی ہوئی تھی اور دوسری طرف ایک دوشیزہ کی دعا مانگتے ہوئے کی تصویر تھی ۔دوشیزہ نے نیلے رنگ کا منٹیلا ( سر پہ پہننے کا جھالر والا رومال) پہن رکھا تھا اور یوں لگتا تھا جیسے کہ وہ بے ابر آسمان میں معلق ہو۔۔ فون کے اوپر ڈائیل تھا جسے للی نے گھمانا شروع کیا۔۔ اسے اپنے ٹچ فون سے گھر کے نمبر پہ بجنے والی مخصوص دھن سننے کی اس قدر عادت تھی کہ وہ اسے اچانک یاد آنے لگی۔۔ دوسری طرف سے اسے جوابی مشین پہ اپنی ہی آواز سنائی دی جو اسے اس وقت کسی طور اپنی نہ لگی۔ آواز پیغام چھوڑنے کا کہہ رہی تھی۔ ’ میں میٹیز کے بیڈ۔اینڈ۔بریکفاسٹ پہ ہوں۔‘ للی نے کہا ۔۔’ مجھے اچانک غاروں کی سیر کا خیال آ گیا ۔۔ شاید کچھ دن یہاں رکوں گی۔۔ تم ہیریٹ کو کال کر کے بتا دو گے کہ میں کل نہیں آؤنگی؟ آجکل کام کم ہے ۔۔کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔۔
وہ ڈیوِڈ کو یہ بھی کہہ سکتی تھی کہ وہ اس کی کمی محسوس کر رہی ہے مگر وقت ختم ہو گیا تھا ۔۔ پر وہ ایسا کہتی بھی تو محض مروتاً ہوتا ۔۔ان کی شادی کو نو سال ہو چکے تھے۔ خیر اس کے بارے میں وہ بعد میں سوچے گی ۔ جب وہ اپنے پرانے روپ میں لوٹے گی تو اس کی کمی بھی محسوس کر ہی لے گی۔۔ شاید تب تک اسے بھی للی کی یاد آ جائے۔۔۔ کیا ہی اچھا ہو کہ یہ بیک وقت ممکن ہو سکے۔
اس نے میٹی سے چابی لی اور اوپر چلی گئی ۔ ہال کے آخری سرے پہ موجود باتھ روم میں چلی گئی ۔۔ٹوتھ برش کیا جو کہ نہ جانے کس کا تھا۔۔اسے خوب اچھی طرح بار بار دھویا ۔۔وہ دروازہ کھول کے باہر آئی ، اپنے کپڑے اتارے اور روتے روتے جانے کب سو گئی۔
صبح آنکھ کھلنے کے بعد ، للی بستر میں ہی لیٹی رہی۔۔ وہ سورج کی روشنی کو رضائی پر اور اپنی بازو کی جلد اور اپنے ہاتھوں پر پھیلتا دیکھتی رہی ۔۔ اس نے کمرے میں ایک نظر دوڑائی ۔۔بیڈ چھوٹا تھا اور اس کا سرہانے والا حصہ لوہے کا بنا ہوا تھا۔۔دیوار پہ چھوٹے چھوٹے گلابی پھولوں والا وال پیپر لگا تھا۔۔ بیڈ کے ساتھ لگی کتابوں کی الماری پہ ایک چینی عورت بنی تھی جس نے ایک ہاتھ میں چھتری تھام رکھی تھی اور دوسرا ہاتھ پھیلا کر ، ہتھیلی اوپر کئے ، دیکھ رہی تھی کہ بارش تھمی یا نہیں۔۔ وہاں بہت سی کتابیں سجی تھیں۔۔ سامنے ہی ایک کتاب ’حسن کا راز‘ کے عنوان سے موجود تھی۔ للی نے پڑھنے کے لئے کتاب کھولی مگر وہ کتاب گھوڑوں کے بارے میں نکلی۔
بیڈروم کے دروازے کے پیچھے ایک قد آور آئینہ لگایا گیا تھا۔۔ للی کو اس کا علم تب تک نہ ہوا جب تک اس پہ سورج کی شعائیں نہ پڑیں جس سے کمرے میں روشنی دوبالا ہو گئی۔۔وہ اٹھی اور آئینے کے سامنے جا کھڑی ہوئی ۔اس کے پیچھے روشن کھڑکی تھی جبکہ آگے آئینے کی چمک لہٰذا اسے دیکھنے میں مشکل پیش آ رہی تھی۔ وہ ذرا آگے کو جھک آئی۔۔ رات رونے کی وجہ سے اس کی آنکھیں سرخ ہو چکی تھیں اور آنکھوں کے پپوٹے سوجے ہوئے تھے۔۔ وہ خود کو کچھ دیر آنکھیں سکیڑ سکیڑ کے اور زاوئیے بدل بدل کے دیکھتی رہی ۔۔ وہ کون تھی؟ کچھ بھی شاید یقین سے کہنا مشکل تھا۔
کافی کی خوشبو اوپر ، بند دروازے سے بھی اندر آ رہی تھی۔۔ للی نے میز سے اپنے کپڑے اٹھائے جہاں رات اس نے اتار پھینکے تھے۔۔ اس نے کپڑے پہن لئے۔۔ لمبی جرابیں، عنابی پھولوں والی قمیض، سفید رنگ کا بزنس سوٹ اور اونچی ایڑھی والا جوتا۔۔ وہ باتھ روم گئی ، کسی اور کا استعمال شدہ بالوں کا برش اور دانتوں کا برش استعمال کیا اور نیچے اتر آئی۔۔
’ تم اس طرح ، اس لباس میں کوہ پیمائی کو نہیں جا سکتی ۔‘ میٹی نے اسے باور کروایا ۔۔ یقیناً یہ للی کے لئے ممکن بھی نہ تھا۔۔ ’ تمہارے پاس دوسرے کپڑے نہیں؟ کس سائز کا جوتا پہنتی ہو؟ چھ ، ساڑھے چھ؟ چھوٹا پاؤں ہے تمہارا، نہیں؟ کیتھرین کے پاس ضرور کچھ ہو گا جو تمہارے کام آ سکے۔‘ اس نے اونچی آواز سے پکارا ۔۔’ کیتھرین۔۔کیتھرین۔۔ ‘
کیتھرین سیڑھیوں کی زیریں ڈیوڑھی سے گیلے ہاتھ برتنوں والے تولئے سے صاف کرتی اندر داخل ہوئی ۔ وہ میٹی سے عمر میں کچھ کم تھی مگر للی سے زیادہ ۔۔ چالیس کے بین بین غالباً۔۔ بھاری بھرکم ، سانولے رنگ اور سیدھے سیاہ بالوں والی عورت ۔۔۔کہنے پر وہ للی کے لئے جینز لے آئی ، ساتھ میں ایک بنا آستینوں کی ٹی شرٹ ، ایک سرخ رنگ کی ہلکی جرسی ، سرمئی جرابیں اور جوتے۔۔ للی کو سب کچھ ناپ سے بڑا تھا۔۔ سب کچھ آسانی سے آ گیا۔۔
ناشتے کے بعد میٹی اسے بیرونی دروازے سے گزارتی ہوئی پیچھے پورچ میں لے گئی۔۔ میٹی کے گھاس کو پانی دینے والے فوارے ختم ہوتے ہی ا س کا لان بھی ریت اور جھاڑیوں کی ایک پہاڑی پہ یکلخت ختم ہو جاتا تھا ۔۔ میٹی نے دوپہر کا کھانا تیار کروا کے پیلے بیگ میں ساتھ بندھوا دیا۔۔ وہ اس بیگ کو پہننے میں للی کی مدد کرنے لگی۔۔ ’ اب تم اوپر جاؤ‘ ۔۔میٹی بولی۔۔’ پہلے اوپر تک چلتی جاؤ اور پھر نیچے کو۔۔تمہیں باڑ کے اس طرف ایک پگڈنڈی دکھائی دے گی۔۔ سانپوں سے ہوشیار رہنا۔۔ کوہ پیمائی تو آتی ہے نا؟‘ ۔۔للی کو بایاں بازو بیگ کی دوسری پٹی سے گزارنے میں دشواری ہو رہی تھی۔۔ اس کی کو ہنی پھنس گئی اور بازو پیچھے اٹک گیا ۔۔میٹی نے بیگ اتار کے ایک بار پھر چڑھانا شروع کیا۔
آ ہاں ہاں۔۔ ‘ للی نے یقین دلانے کی کوشش کی ۔’ کوہ پیمائی بہت کی ہے میں نے۔‘ میٹی کچھ بے یقین سی تھی۔۔ ’ میں پہاڑ چڑھ جاتی ہوں۔‘ للی نے بتایا ۔۔’ میں اُس قسم کی کوہ پیمائی کرتی ہوں ، وہ رسیوں اور آنکڑوں والی اور ہتھوڑوں والی ۔۔ میں پیچھے کچھ پہننے کی عادی نہیں ۔۔ میں کمر پہ پہنتی ہوں۔۔ تفریحی گروپ لے کے جایا کرتی ہوں۔۔ لائبریری کے لوگ، سکول کے اساتذہ او ر بیوٹیشن وغیرہ۔۔‘
ـ’ یہاں چڑھائی کے لئے بس ایک پگڈنڈی ہے ‘ میٹی نے تشکیک بھرے انداز میں کہا ۔۔ ’ تم اسی رستے پہ چلتی رہی تو مجھے نہیں لگتا کہ تمہیں کوئی دشواری ہوگی ۔۔تمہیں جوتے پورے نہیں ۔۔ایسا نہ ہو چھالے پڑ جائیں۔۔‘
’ میں نے ایک دفعہ پورے تین دن جنگل میں بغیر خوراک اور کسی چھت کے گزارے تھے۔۔برف بھی پڑنے لگی تھی۔۔ مجھے اس پہ ایک اعزاز ی تمغہ بھی ملا تھا۔۔‘
بیگ اب صحیح بیٹھ چکا تھا۔۔ ’شکریہ ‘۔۔ للی نے کہا۔
’ ٹھہرو ذرا ، میں تمہارے پیروں کے لئے نرم موزے لے آؤں۔۔اور میں تمہارے ساتھ جپ کو بھیجوں گی۔۔ جپ بہت سمجھدار ہے۔ جپ کو سارے راستے بھی پتہ ہیں۔۔ تمہیں اس کے ساتھ مزہ آئے گا۔۔‘میٹی نے اسے بتایا۔۔یہ کہہ کر وہ واپس گھر کے اندر چلی گئی ۔
’ ایسا بورنیو میں تھا۔۔‘ للی دھیمی آواز میں بولی کہ میٹی سن نہ لے۔۔ ’ چھالوں کی بات کرتی ہو۔۔کبھی بورنیو کی برف میں چلو تو پتہ چلے۔۔‘
جپ ایک نوجوان گڈریا کتا تھا۔۔ اس کا ایک کان عین گڈرئیے کے انداز میں مڑا ہوا تھا اور دوسرا شیفرڈ کی طرح اوپر کو اٹھا نوکدار۔۔ ’ میں نے تمہارے بارے میں اچھی اچھی باتیں سنی ہیں۔۔‘ للی نے جپ کو بتایا ۔۔ وہ گیٹ سے باہر جاتے ہوئے للی کے پیچھے پیچھے چلتا رہا۔۔ باہر نکلتے ہی اس نے آگے چل کر راہنمائی شروع کر دی۔۔ اس کی دُم اور کولہے ہر قدم کے ساتھ دائیں بائیں جھول جاتے۔۔ اس نے رفتار سہل رکھی ہوئی تھی۔۔ راستہ بھی مبہم نہ تھا۔۔ جب وہ چلے تو موسم بھی خوشگوار تھا۔۔ ابھی ایک گھنٹہ بھی نہ گزرا تھا کہ للی نے اپنی جرسی اتار دی ۔۔ جپ کی زبان بھی لٹک چکی تھی۔۔ اب دونوں کو قدرے بہتر محسوس ہونے لگا۔
ابھی سورج پوری طرح چڑھا نہیں تھا کہ للی کچھ کھانے کے لئے رک گئی۔۔ ’گیارہ بج کر بائیس منٹ ‘ ۔۔اس نے جپ کو بتایا۔۔ ’ سورج کو دیکھ کر اندازہ کر رہی ہوں۔۔‘ کیتھرین نے سیب کا جوس اور ٹھنڈا چکن پیک کیا تھا۔۔ ایک سنگترہ بھی تھا جس کے چھلکے میں اس نے شگاف ڈال دیا تھا ۔۔ایک چوکلیٹ کا کیک جس کے بیچ میں کریم تھی میٹھے کے طور ساتھ رکھ دیا تھا۔۔جب سے سکول جانا چھوڑا تھا، للی نے ایسا کپ کیک نہ دیکھا تھا۔۔ وہ ایک سایہ دار چٹان سے کمر ٹکا کے بیٹھ گئی اور جپ کو بھی کھانے کو دینے لگی سوائے کریم والے حصے کے۔۔ اس کے بائیں ایڑھی پر ایک سرخ نشان پڑ چکا تھا جسے اس نے نرم موزے سے ڈھانپ لیا۔۔ جپ اس کے برابر ہی لیٹ گیا۔۔ للی کو بھی اونگھ آنے لگی۔۔ ’ کچھ دیر آرام کرنا ہے تمہیں؟‘ اس نے جپ سے پوچھا۔۔
’ غار نہ بھی دیکھنے جائیں تو مجھے پرواہ نہیں۔۔ تم نے تو پہلے ہی دیکھ رکھی ہیں۔۔ سچ پوچھو تو ، مجھے غار دیکھنے کی ایسی خواہش بھی نہیں۔‘ اس نے جمائی لی ۔ اس کے بائیں طرف جھاڑیوں میں کوئی جانور سرسرا کے چھپ گیا۔۔ جپ نے بمشکل سر اٹھایا۔۔ للی نے کیتھرین کی سرخ جرسی کا تکیہ بنایا اور پتھر سے ٹیک لگا کر سو گئی ۔۔
جب اس کی آنکھ کھلی ، سورج اس کی پشت پہ آ چکا تھا۔۔جپ اس کے پیروں میں تھا ۔۔اس کی نظر للی کے سر کے اوپر کسی شے پہ جمی تھی۔۔ اس کی دُم دھیرے سے ہلی اور اس کی کراہ نکل گئی ۔۔ زمین پہ ، جپ سے آگے اور اس سے بھی کئی فٹ آگے تک ایک آدمی کا سایہ پھیلا تھا۔۔لمبی ٹانگیں اور ایک بازو یوں اوپر اٹھا ہوا کہ جیسے وہ کسی کو ہاتھ ہلا رہا ہو۔۔ جب للی پتھر سے اٹھی اور پیچھے مڑ کے دیکھا تو وہ جا چکا تھا۔
وہ اس بات سے کچھ پریشان سی ہو گئی۔۔ اس نے سوچا کہ شاید کوئی ماہر کوہ پیما ہوگا جو سفر جاری رکھنے کو راستے میں سستانے سے بہتر خیال کرتا ہوگا ۔۔ وہ میٹیز جانے کے لئے واپس مڑی ، ابھی چند ہی قدم چلی تھی ، تقریباً ایک گلی سے بھی کم کہ اس کی نظر ایک ایسی چیز پہ پڑی جو دوسرے رستے سے آتے ہوئے اس سے نظر انداز ہو گئی تھی۔۔ پہاڑی کے چپٹے حصے پہ ایک عورت کی شبیہہ بنی تھی جو پگڈنڈی کے ساتھ ساتھ چٹان پہ آگے کو نکلی ہوئی دکھائی دیتی تھی ۔۔اس کا زاویہ کسی حد تک چپٹا تھا ، تصویر بھی سادگی سے بنائی گئی تھی مگر اس میں ایک غیر معمولی کشش تھی۔ خاص بات یہ تھی کہ وہ پینٹنگ ایک پہاڑی پہ تھی۔۔ للی نے ’کیلی لوز ایرک‘ یا ’اینجیلا پُٹس آؤٹ‘ کے علاوہ پہاڑی پہ پینٹنگ دیکھی ہی کب تھی۔ عورت کے سیاہ بال اس کے چہرے کے دونوں طرف بالکل سیدھے آراستہ تھے۔۔ اس کی سیاہ آنکھیں نیم وا تھیں اور اس کی جلد کا رنگ گہرا گندمی ۔۔۔ وہ اپنے ہاتھوں کی طرف نیچے کو دیکھ رہی تھی جسے اس نے ایک کشکول کی شکل دے رکھی تھی۔ ۔اس نے سرخ رنگ کا لباس پہنا ہوا تھا۔جہاں جہاں پہاڑی کی سطح نا ہموار تھی وہاں سے روغن چٹخا ہوا تھا ۔۔ایک بازو کا رنگ تو مکمل طور پہ اکھڑ چکا تھا۔۔ للی نیچے جھکی کہ اس غیر موجود بازو کو چھو سکے۔۔فضا میں ایک دم سناٹّا چھا گیا جیسے کہ پرندے، اور سانپ اور کیڑے سب کی سانس اچانک رک گئی ہو۔۔ للی جوں ہی سیدھی ہوئی تو معمول کی آوازیں پھر سے جاگ اٹھیں۔۔ وہ جپ کے پیچھے پیچھے اترائی پار کرتی نیچے چلی آئی ۔
’ میں غاروں میں نہیں گئی ‘۔۔اس نے میٹی کے سامنے اعتراف کیا ۔’ میں کل پھر جاؤں گی۔ مگر میں نے وہاں ایک عجیب چیز دیکھی ۔ ایک پینٹنگ۔۔چٹان پہ ایک عورت کی تصویر۔۔ میں نقش و نگا ر سمجھتی ہوں مگر اس قسم کے نہیں۔۔ کس نے بنائی وہ تصویر؟‘
’میرے علم میں نہیں۔۔‘ میٹی نے کہا۔۔’ میرے آنے سے بہت پہلے کی ہے وہ تصویر یہاں۔۔یہاں بہت سے لوگ کھیتوں میں کام کرنے آتے ہیں ، بدلتے موسموں کے ساتھ۔۔مجھے ہمیشہ لگا کہ وہ میکسیکن دکھتی ہے۔۔ کیونکہ ایسی پینٹنگز آپ کو زیادہ تر میکسیکو میں ہی ملتی ہیں۔۔ چٹانوں کی میڈونا ئیں (پاکباز عورتیں) ۔۔ میں نے کہیں پڑھا تھا کہ یہ جو مصور ہوتے ہیں، یہ اپنی ماں کے چہرے کا تصور باندھتے ہیں۔۔لکھاری یہ بھی کہتا ہے کہ ایسے میں سڑکوں کے اردگرد آپ کو ایسی پینٹنگز اکثر دکھائی دیتی ہیں اور وہ یہ بھی کہتا ہے کہ جن کے یہاں رواج ہو کہ مرد اپنی ماؤں سے عشق کرتے ہیں وہ ثقافتیں جنسی طور پہ دنیا کی سب سے قوی ثقافتیں ہوتی ہیں۔ ایک دلچسپ مضمون تھا وہ۔۔ سال گزرنے کے ساتھ اس (تصویر) کا رنگ پھیکا پڑ گیا ہے۔‘
’ ایسی باکرہ پاکباز عورت تو سرخ لباس کم ہی پہنتی ہے۔‘ للی نے خیال ظاہر کیا
’ ہاں ایسا ہی ہے۔۔ ‘ میٹی نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی، ’ زیادہ تر نیلا پہنتی ہے، ہے نا؟‘۔۔اس نے بیگ اتارنے میں للی کی مدد کی۔ ۔۔’ تمہیں چھالے تو نہیں پڑ گئے؟‘ ۔۔اس نے پوچھا۔۔’ مجھے تمہاری بہت فکر ہو رہی تھی۔۔‘
’ نہیں۔۔‘ للی نے بتایا جبکہ اس کی ایڑھی کا وہ حصہ اب بھی دکھ ے جا رہا تھا۔’ میں ٹھیک ہوں‘۔
’معلوم ہے اس پینٹنگ کے بارے میں تمہیں کون بتا سکتا ہے؟ ایلیسن بیل۔۔ وہ اس قصبے کی لائبریری چلاتی ہے اور یہیں ٹُو ٹریز میں رہتی ہے۔۔ وہ عرصے سے یہاں قیام پذیر ہے۔۔ تم آج رات ہی اس سے مل سکتی ہو چاہو تو خود ہی اس سے پوچھ لینا۔۔ میں تمہیں اس کا پتہ دے دوں گی۔۔ اسے لوگوں سے ملنا اچھا لگتا ہے۔‘
للی ایلیسن بیل کا پتہ اور نقشہ جیب میں ڈال کر اپنی گاڑی میں آ بیٹھی۔۔اسے پہلے وہیں جانا تھا ، پھر رات کے لئے ایک چھوٹے سے اطالوی مطبخ کے نام سے مشہور ریستوران سے کھانا لینا تھا مگر وہ دائیں جانے کی بجائے بائیں مڑ گئی اور پھر بائیں اور ایک شراب خانے میں پہنچ گئی جو اس نے ٹُو ٹریز آتے ہوئے رستے میں دیکھا تھا جس کی کھڑکی کے شیشے پہ جلتی بجھتی بتیاں رواں تھیں۔۔ واحد گاہک ، ایک آدمی، اس کی طرف پیٹھ کئے کھڑا تھا جو سکہ ڈالنے والی مشین سے انتخاب میں مصروف تھا پر لے کچھ نہ رہا تھا۔۔ للی کاؤنٹر پہ جا کے بیٹھ گئی اور ایک مارگریٹا آرڈر کیا۔۔ اس میں نمک نہ تھا اور برف بھی کُٹی ہوئی کی بجائے ثابت ہی تیر رہی تھی۔۔ ’آپ وہ خاتون ہیں جو میٹی کے پاس رکی ہوئی ہیں ‘ ۔۔۔ بار کے مالک نے اسے اطلاع دی۔۔ ’ میرا نام ایگن ہے۔۔ آپ غاریں دیکھ آئیں؟‘
’ میں، للی‘۔۔ للی نے بتایا۔۔’ مجھے غار دیکھنا پسند نہیں ۔۔ میں تو سپر مارکیٹ میں گم ہو جاتی ہوں۔۔فریزر پہ لگی خوراک کے خانوں میں کئی کئی دن سویٹر پہن کے جانا یاد نہیں رکھتی ۔۔میں تو یہ سوچ کے بھی ڈر جاتی ہوں کہ غاروں میں میرا کیا حال ہو گا۔‘
’ یہ غاریں زیادہ گہری نہیں۔۔ ‘ بار کے مالک نے ہاتھ کے ایک رخ سے اس کے سامنے سے کاؤنٹر پونچھتے ہوئے بتایا۔۔’ ٹُو ٹریز تک آنا اور غاریں نہ دیکھنا بذات خود ایک افسوسناک بات ہے۔‘
’ یہاں کا مقامی گائیڈ ساتھ لے جائیں۔۔‘ دوسرے آدمی نے مشورہ دیا۔ جب وہ آرڈر دے رہی تھی تو وہ اس کے پیچھے آ کھڑا ہوا۔
وہ اس کے تھوڑا آگے کو آئی۔
’ہینری‘۔۔ اس نے اپنا تعارف کرایا۔۔ اس کی لمبی سیاہ داڑھی تھی اور اس نے گلے میں زمرد پہن رکھا تھا۔ پچھلی بار جب للی نے اسے دیکھا تھا تو وہ پولیس کی وردی میں تھا۔۔ اس کے اتنے لمبے بالوں کا تو للی کو پہلے احساس نہ ہو ا تھا۔
’ آپ انڈین ہیں۔‘ للی نے پوچھا۔
آپ کی پشت سے بات کرنا دشوار ہے ۔‘ وہ اس کے برابر والے سٹول پہ آ کے بیٹھ گیا۔۔ للی نے اندازہ لگایا ، وہ تیس برس کے لگ بھگ تھا۔۔للی کا تقریباً ہم عمر۔۔ ’ اپنی شادی کی انگوٹھی اتارو تو ایک جام میری طرف سے‘
للی نے اپنی انگلی سے انگوٹھی اتار دی۔ اس کے ہاتھ سرد تھے ۔وہ انگلی کے جوڑ سے بھی آسانی سے نکل آئی۔۔ للی نے انگوٹھی رومال پہ رکھ دی۔۔ ’لو اتر گئی ۔۔‘ وہ بولی ۔’ لیکن میں بس یہی اتار پاؤں گی۔ ہم دونوں ہم مزاج ہیں شاید ۔۔۔‘
بار کا مالک اس کے لئے ایک اور مارگریٹا (شراب) لے آ یا۔۔’ پہلا تو آپ کے لئے ہماری طرف سے تھا۔۔‘ وہ بولا۔۔’ کیونکہ آپ ٹُو ٹریز میں ہماری مہمان ہیں ۔۔ دوسرا ہینری کی طرف سے۔۔ تیسرا جب لیں گی تو اس کے بارے میں بھی سوچیں گے۔‘
للی نے تیسرا بھی تقریباً ایک گھنٹے بعد لے لیا۔۔ اس کے بغیر بھی گزارا ممکن تھا۔۔ وہ پہلے ہی کافی چڑھا چکی تھی۔ وہ اور ہینری اور بار کا مالک۔۔۔ بار میں صرف یہی تین لوگ موجود تھے۔۔
وہ بولی۔۔’ مجھے ایک بات پریشان کر رہی ہے؟‘ بار کا مالک کاؤنٹر کے دوسری جانب اس کے سامنے کھڑا تھا۔۔ ہینری ایک کہنی کے بل جھکا ہوا تھا۔ للی کو خبر تھی کہ اس کے الفاظ پھسل رہے ہیں۔۔ وہ الفاظ واضح ادا کرنے کی کوشش کرنے لگی۔۔ ’ کافی پرانی لگتی ہے۔۔ میں اس سے اتنی الجھ گئی ہوں کہ سوچا کہ جا کے لائبریرین سے بات کروں۔مگر میں غلط تھی۔‘
وہ ہنسنے لگی اور اپنا تیسرا جام پینے لگی۔ ’ اسے دوبارہ زندگی ملنی چاہئے۔۔جیسے سسٹین کا گرجا گھر ۔۔‘
’ میں آپکو اس کے بارے میں کچھ بتا سکتا ہوں‘۔۔ بار کا مالک بولا۔۔’ مگر میں قسم نہیں اٹھا سکتا کہ اس میں سے کوئی ایک بات بھی درست ہے کہ نہیں۔بس وہ بتا سکتا ہوں جو لوگ کہتے ہیں۔۔ یہ ایک معجزے کی تصویر ہے۔‘
اس نے ہینری کو بغور دیکھا۔ ’ ایسا معجزہ جسے رونما ہوئے سو برس سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے ۔۔ وہ تصویر یہیں کے کسی مقامی آدمی نے بنائی تھی مگر کسی کو یاد نہیں کہ وہ بنانے والا کون تھا۔۔ یہ عورت اسے ایک دن اسی چٹان کے پاس دکھائی دی تھی۔۔اس نے اپنے ہاتھ پھیلا رکھے تھے ، کشکول کی طرح، جیسا کہ اس نے اس کی تصویر بنائی،۔۔یوں لگتا ہے وہ عورت اسے کوئی چیز پیش کر رہی تھی مگر اس کے ہاتھ خالی تھے۔۔اور پھر وہ غائب ہو گئی۔‘
’اچھا؟‘للی کے منہ سے نکلا
’اچھا ۔۔کیا؟‘ ۔۔ ہینری نے اس کی طرف دیکھ کر کہا۔۔ للی نے بھی اپنا رخ اس کی طرف موڑ لیا۔۔ ہینری شاٹ گلاس میں کچھ بہت شفاف سا پی رہا تھا۔۔ایگن، ہینری کے کہے بغیر بار بار اسے بھر دیتا اور بار بار ہینری بغیر اس مشروب کے زیر اثر آئے اسے خالی بھی کر دیتا۔ للی سوچنے لگی کہ کیا وہ پانی پئے جا رہا تھا۔
’ معجزہ کیا تھا؟۔واقعہ کیا ہوا ؟‘
ایک لمحے کا توقف در آیا۔۔ ہینری کی نظریں اپنی شراب پہ جمی رہیں ۔۔آخرکار، ایگن بولا۔۔ ’ ایسی کوئی بات میرے علم میں نہیں۔۔‘
اس نے ہینری کی طرف دیکھا۔ ہینری نے کندھے اچکائے۔۔’ معجزہ یہی کہ وہ اچانک نمودار ہوئی۔۔ معجزہ یہی کہ وہ ایسا انسان تھا کہ اس کے ساتھ یہ واقعہ پیش آتا۔۔‘
للی نے غیر مطمئن انداز میں سر کو جھٹکا۔
’ معجزہ یہ بھی ہے کہ وہ پینٹنگ اتنے عرصے سے قائم ہے۔۔آپ کو ایسا نہیں لگتا؟‘ ۔۔ایگن نے لقمہ دیا۔۔’ یوں کھلے آسمان میں ، ہوا اور ریت کے ہوتے ۔۔اور پھر اتنے برس۔۔؟‘
اس نے ایک بار اپنے سر کو جھٹکایا
’ تم خاصی مضبوط اعصاب کی عورت ہو۔‘ ہینری نے اسے بتایا۔۔وہ آگے جھک آیا ۔۔’ اور حسین بھی‘۔۔
اس کے اس مصنوعی سے انداز پہ للی کو ہنسی آ گئی۔۔’ اچھا۔۔‘ للی نے اپنی انگلی سے شراب گھمائی۔۔’ یہ انڈین لوگ ماؤں کے بارے میں کیسا سوچتے ہیں۔؟‘
’ مجھے تو اپنی ماں سے محبت تھی۔ یہ جواب درست ہے؟‘
’ میں بتاؤں میں نے انڈین لوگوں کے بارے میں کیا سن رکھا ہے۔۔للی نے اپنی کہنیاں کاؤنٹر پہ رکھیں اور دونوں ہاتھوں کے بیچ اپنی تھوڑی ٹکا لی۔
’ میں بتا سکتا ہوں کہ کیا سنا ہے‘۔۔ ہینری کی آواز سرگوشی میں بدل گئی ۔۔’ میں یقیناً بتا سکتا ہوں جو کچھ تم سنتی آئی ہو۔‘
’ میں نے سنا ہے کہ عام طور سے جنسی تکنیک باپ اپنے بیٹے کو سکھاتا ہے۔۔‘ للی نے شراب کا ایک اور گھونٹ بھرا۔۔’ اور تمہیں پتہ ہے میں ہمیشہ کیا سوچتی ہوں۔۔ میں سوچتی ہوں کہ اس طرح تو کئی غلطیاں نسل در نسل منتقل ہوتی ہو ں گی۔۔مجھے تو ایسا ثقافت مرعوب کر سکتی ہے جس میں جنسی تکنیک ایک ماں اپنے بیٹے کو سکھائے‘
’ تو جناب بندہ حاضر ہے ۔‘ ہینری بولا۔۔’ آزما ئش شرط ہے ۔۔ خود جان لو ۔‘ ۔۔ بار کے دوسر ے سرے پہ فون بجنے لگا۔۔ ایگن فون سننے گیا۔۔ ہینری مزید آگے جھک آیا اور اسے گہری نظروں سے دیکھنے لگا۔۔ ’ تمہاری آنکھیں انتہائی مسحور کن ہیں۔۔ ‘ اس نے کہا تو للی فوراً دوسری طرف دیکھنے لگی۔ ’میں فیصلہ نہیں کر پا رہا ان آنکھوں کا رنگ کیا ہے؟ ‘
للی ایک بار پھر ہنسی ۔۔اس بار وہ خود پہ ہنسی۔ وہ اس قسم کی بیباکی کا جواب دینا ہی نہ چاہتی تھی مگر وہ خود کو روک بھی نہ پا رہی تھی ۔۔ اب اس کی ہنسی میں ایک پاگل پن سا در آیا ۔۔ وہ کھڑی ہو گئی۔۔’ اپنی پینٹ اتارو تو میں تمہیں ایک جام دلاؤں۔‘ یہ کہہ کر وہ ہینری کے چہرے پہ آنے والے حیرانی کے تاثرات کا مزہ لینے لگی۔
کاؤنٹر کے اُس سرے پہ اور پھر بائیں۔۔‘ بار کے مالک نے فون رکھتے ہوئے اسے آواز لگائی ۔۔۔۔للی ہر سٹول کو تھام کے گزرتی اور جب چھوڑتی تو وہ گھوم جاتا ۔۔آخری دو چار قدم وہ خود چل کر باتھ روم گئی ۔۔ دروازے پہ بنے علامتی خاکے نے سکرٹ پہن رکھا تھا۔۔ للی لڑکھڑاتی ہوئی اندر داخل ہو گئی ۔۔ ایک طرف دیوار پہ کھدائی کر کے لکھا گیا تھا ، ’ برائن ایک لومڑ ہے ‘ ۔ دوسری دیوار پہ ’ پاکیزگی مار ڈالتی ہے‘ لکھا تھا۔۔ ساتھ تصویر بھی تھی ۔ ایک اور عورت کی تصویر۔۔ جو غالباً اپنی عصمت کو مارے ڈال رہی تھی۔۔ اسکی بھی کالی دیوی کی طرح بہت سی بازو تھیں اور بہت سارے دانت تھے ۔۔ اس کے منہ سے ایک غبارہ سا نکلتا بنایا گیا تھا ۔۔وہ ’خوش آمدید ــ‘ کہہ رہی تھی۔
للی کچھ لمحے آئینے کے سامنے کھڑے ، بال سنوارتی رہی ۔۔اس نے اپنے ہاتھ پہ اپنی سانس پھینکی اور پھر اسے سونگھنے کی کوشش کرنے لگی مگر اسے صرف صابن کی خوشبو ہی آ سکی۔۔ اسے لگا یہی ٹھیک ہے۔۔’ میں گھر جا رہی ہوں‘۔۔ اس نے بار کے پیچھے سے اعلان کیا ۔۔’ بہت لطف آیا یہاں۔۔‘
وہ اپنے پرس میں چابیاں ڈھونڈنے کے لئے ہاتھ مارنے لگی ۔۔ہینری نے چابیاں اٹھاتے ہوئے انھیں چھنکایا۔۔’ میں تمہیں یوں ڈرائیو کر کے جانے نہیں دوں گا۔۔تم باتھ روم بہت مشکل سے جا پائی تھی۔‘
’ اور میں تمہیں لے جانے کے لئے نہیں کہوں گی۔۔میں تمہیں ٹھیک سے جانتی بھی نہیں۔‘
’ میرا بھی ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ میرا خیال ہے تمہیں پیدل جانا چاہئیـ‘۔
للی نے چابیاں پکڑنے کو ہاتھ بڑھایا ہینری نے مٹھی بند کر لی۔۔ ’صرف چھ بلاک ہی تو جانا ہے۔‘وہ بولا
’ باہر اندھیرا ہے۔۔کوئی حملہ کر سکتا ہے۔‘
’نہیں ۔ٹُو ٹریز میں ایسا ممکن نہیں۔‘
’کہیں بھی ہو سکتا ہے۔۔تم نہیں جانتے ۔۔‘ للی اسے دیکھ کر مسکرائی۔۔’ چابیاں دو مجھے ۔۔پہلے ہی میرے پاؤں میں چھالہ ہے۔‘
’میں تمہیں چابیاں دے دوں تو دو بلاک بعد ہی گاڑی درخت میں جا مارو گی۔۔ میں ایسا نہیں کر سکتا۔۔اس بات میں تو ایگن بھی میری حمایت کرے گا‘۔۔ہینری نے بند مٹھی سے بار کے مالک کی طرف اشارہ کیا۔
’بالکل درست۔‘ ایگن بولا۔’ آپ ڈرائیو کر کے نہیں جا سکتیں۔۔ آپ چلتے ہوئے ٹھیک رہیں گی۔۔اور ہاں، جپ بھی آپکو لینے آ گیا ہے۔‘۔۔للی کو بار کے دروازے سے باہر کتے کا دھندلا سا ہیولا دکھائی دیا۔
'ہیلو جپ۔‘ للی نے کہا۔۔’ دروازے کے پرے وہ ہیولا دائیں بائیں جھول گیا۔۔ ’ ٹھیک ہے ‘۔۔ للی واپس ان دونوں آدمیوں کی طرف مڑی ۔۔’ ٹھیک ہے ۔۔میں چل کے جاتی ہوں۔‘ اس نے رضامندی دی۔’ اس قصبے کے مرد ظالم ہیں مگر کتے اچھے ہیں۔۔آدمی کو کتوں سے ہی محبت کرنی چاہئے۔‘ ۔۔
اس نے شفاف شیشے والا دروازہ کھول دیا ۔جپ راستہ دیتے ہوا ہٹ گیا۔۔
’ کل۔‘ ایگن اس کے پیچھے سے چلّایا۔۔’ آپ ضرور جائیے وہ غاریں دیکھنے۔۔‘
جپ اس کے ساتھ ساتھ ، اس کے اور سڑک کے درمیان چلتا رہا۔ زیادہ تر مکان سو چکے تھے اور تاریکی میں ڈوبے ہوئے تھے۔۔ ایک مکان کے سامنے ایک عورت پورچ میں بیٹھی بچے کو گود میں جھلا تے ہوئے لوری سنا رہی تھی۔ وہ کوئی دکھ بھرا گیت تھا۔۔ للی جب میٹیز پہنچی تو خاصی ہوش مندی محسوس کر رہی تھی۔
میٹی بیٹھک میں بیٹھی تھی۔۔’ایگن کا فون آیا تھا‘۔۔ وہ کہنے لگی۔۔’ میں تمہیں چائے بنا دوں۔۔میں جانتی ہوں اس وقت تم چائے لینا نہیں چا ہو گی مگر اس میں کچھ ایسی بُو ٹیاں ہیں جو نشہ توڑنے کے لئے موثر ہیں۔۔ تمہیں پی کر برا نہیں لگے گا۔ غاروں کی طرف لمبی چڑھائی ہے۔۔تمہیں اب آرام کرنا چاہئے۔‘
للی صوفے پر اس کے برابر بیٹھ گئی ۔ ’شکریہ۔۔آپ میرا بہت خیال رکھتی ہیں میٹی۔۔ میں اس قابل نہیں۔۔ میرا رویہ کچھ ایسا اچھا نہیں رہا۔۔‘
’ شاید اب کی بار اچھا بننے کی میری باری ہو۔‘ میٹی نے کہا ۔۔’ ہو سکتا ہے نا کہ تم اپنی باری دے چکی ہو۔۔ کھانا کھایا تم نے؟‘
’ میرا خیال ہے میں نے چند نمکین بسکٹ کھائے تھے۔‘ للی کمرے میں فون کے لئے ادھر ادھر دیکھنے لگی۔۔اسے لگا اسے ڈیوِڈ کو کال کرنی چاہئے۔۔ اس نے میڈونا کی تصویر کی طرف دیکھا۔۔ یہ تصویر دلچسپ نہ تھی۔۔کچھ زیادہ ہی معصوم تھی ، اتنی معصوم کہ بری لگ رہی تھی ‘ ’ میں اپنے شوہر سے بات کر لوں۔‘ ۔۔ اس نے میٹی سے کہا اور وہیں بیٹھی رہی۔
’کیا تم چاہتی ہو میں تمہیں اکیلا چھوڑ دوں۔؟‘
نہیں۔‘ ۔ للی بولی۔۔’ یہ اس طرح کی کال نہیں۔۔ میں اور ڈیوِڈ ۔۔۔ہماری کوئی ذاتی گفتگو نہیں ہوتی۔‘
اسے اچانک احساس ہوا کہ وہ اپنی شادی کی انگوٹھی وہیں بار میں چھوڑ آئی تھی اپنے گلاس کے ساتھ ، رومال کے اوپر ‘
کیا تمہاری شادی خوشگوار ہے؟‘ ۔۔میٹی نے پوچھا ۔۔’ میرے متجسس ہو نے کے لئے معذرت ۔ بس ویسے ہی پوچھ لیا ۔۔خیر، یہ لو۔‘
’پتہ نہیں‘۔۔ للی نے کہا
میٹی نے اپنا ایک بازو بڑھا کر للی کو ساتھ لگا لیا۔۔للی اس کی طرف جھک گئی۔۔ ’ کچھ لوگوں کے لئے محبت کرنا کتنا دشوار ہوتا ہے ، اور لوگوں کی نسبت ‘۔ ۔۔ وہ بولی۔۔’ اور چاہے جانا تو شاید اس سے دشوار کام ہے۔۔خیر ایسا تمہارے لئے نہیں ۔۔ تم جیسی محبت رکھنے والی عورت کے لئے ہر گز نہیں۔‘
للی اٹھ کے بیٹھ گئی اور چائے اٹھا لی۔۔ اس میں سے کیمومائل کی خوشبو اٹھ رہی تھی۔۔ ’ میٹی‘۔۔ وہ بولی۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کیسے سمجھائے ۔۔للی کو احساس تھا کہ وہ ہمیشہ لوگوں کو اچھی لگتی کہ جتنی وہ حقیقت میں تھی نہیں ۔۔ یہ بھی ایک الگ اذیت تھی۔ میٹی کا تجزیہ کئی طرح سے درست تھا۔۔ للی کے خاندان کے افراد اور دوست احباب حیران ہوا کرتے تھے کہ وہ ایسے سرد مہر اور اصولی شخص کے ساتھ کیسے رہ لیتی تھی۔۔ مگر حقیقت تو اس سے بھی سوا تھی۔۔ للی نے کئی بار ڈیوِڈ کے لئے چھوٹی چھوٹی آزمائشیں رکھیں ۔کبھی اس کا احساس جانچنے، کبھی اس کا خلوص پرکھنے کے لئے ۔ جس وقت پورا نہ کرپاتا للی خوش ہوتی اس سے ثابت ہوتا ان کے درمیان جو ہے اس کا ذمہ وار ڈیوِڈ ہی تھا۔
جاری ہے۔۔۔

0 Comments