سر خ کنول (دوسرا/ آخری حصہ)
تحریر: کیرن جوئے فاؤلر(امریکا)
مترجم: نبراس سہیل (متحدہ عرب امارات)
وہ کبھی پیار کا اظہار کرتا ہی نہ تھا۔۔ مجھے اتنا سادھو سنت بھی نہ سمجھو ‘ وہ بول اٹھی۔ اس رات للی بہت گہری نیند سوئی ۔۔خواب میں بھی شراب اور چائے دیکھتی رہی اور صبح خاصی دیر سے جاگی۔۔ تقریباً دس بج چکے تھے جب اس نے اور جپ نے چڑھائی کا راستہ پکڑا۔۔آج چڑھائی چڑھتے ہوئے اس نے پینٹنگ کو دیکھا۔ اور ایسے مقام پہ کھڑے ہو کر گزشتہ روز جیسا کھانا کھایا کہ جہاں سے وہ اس تصویر کو دیکھ سکے۔ جپ پھولی ہوئی سانس لئے اس کے برابر بیٹھ گیا۔پھر وہ اس چٹان کے پاس سے گزرے جہاں کل انھوں نے کھانا کھایا تھا۔۔۔ انھوں نے پہاڑ پہ چڑھائی ختم کی اور نیچے اترنے لگے ۔۔ اترائی تیکھی تھی۔۔رستہ دھول بھرا اور مشکل تھا۔۔للی جو چڑھائی میں بے تحاشہ تھک چکی تھی، اسے اترائی اس سے بھی زیادہ کٹھن محسوس ہو رہی تھی۔۔ جب راستہ پہاڑی کی ایک چھوٹی سی کھوہ میں آ کے رکا تو اس نے سوچا وہ کچھ دیر آرام کر کے واپس اترے گی۔ سب لوگوں کو بہت اشتیاق تھا کہ وہ غاریں دیکھ کے ہی لوٹے مگر خود اسے ایسی کوئی چاہ نہ تھی۔۔ اس نے اپنا سامان والا بیگ زمین پہ رکھا اور پاس ہی بیٹھ گئی۔۔ جپ نے اپنا مڑا ہوا کان اوپر کو اٹھایا اور دُم ہلائی ۔۔
![]() |
| سر خ کنول (دوسرا/ آخری حصہ) |
للی نے مڑ کے دیکھا تو اسے قطعی حیرت نہ ہوئی کہ ہینری بھی پہاڑی سے اتر رہا تھا۔اس کے بال کھلے تھے اور اس کے کندھوں پہ بکھرے ہوئے تھے۔ ’اچھا تو پھر‘، وہ بولا ۔۔’ تم میرے بغیر غاروں تک پہنچ ہی گئی۔‘ ’ تم مذاق کر رہے ہو ۔‘۔ للی کھڑی ہو گئی۔۔’ اس چھوٹی سی دراڑ کی بات کر رہے ہو ؟ یہ ٹُو ٹریز کی مشہور غاریں نہیں ہو سکتیں ۔۔یہ کہو کہ اگلے موڑ پہ اصلی غاریں ہیں ، تو کوئی بات بھی ہے۔۔۔‘ ’ تم کو اس سے زیادہ کیا چاہیے؟‘۔۔ ہینری اس سے کہنے لگا۔۔’ کافی نہیں ہیں؟ تم ایک طاقتور عورت ہو۔‘ ’ جانے بھی دو۔۔‘ للی نے اپنی آنکھوں پہ پڑی بالوں کی لٹ ہٹائی۔۔ ’ تو کیا تم مجھے یہ کہہ رہے ہو کہ لوگ یہاں انھیں دیکھنے آتے ہیں؟‘ ’ غار اہم نہیں ہوتی ۔‘۔۔ ہینری اسے بغور دیکھ رہا تھا۔۔للی کو اپنا چہرہ سرخ ہوتا محسوس ہوا۔۔’ غار میں چھپے راز اہم ہوتے ہیں ۔‘ وہ اس کے مزید قریب چلا آیا۔۔ ’ جب ایک حسین عورت غار میں چلی آتی ہے تو جو کچھ ہوتا ہے وہ اہم للی بھی سیدھا اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔ اس کی آنکھ کی پتلی میں ، ایک ننھی سی للی اسے دیکھ رہی تھی۔ ’مجھ سے دور رہو۔ ‘ للی نے کہا۔۔ کیا وہ ایک ایسی عورت تھی کہ ایک اجنبی مقام پہ کسی اجنبی کو اپنا بوسہ لینے دے۔؟ شاید ایسا ہی تھا۔۔ شاید وہ اسی قسم کی عورت تھی جو اس لمحے کسی بھی بات سے انکار نہ کر پا رہی تھی
وہ ہینری کے لئے آگے بڑھی۔۔ اس نے اپنا ایک بازو اس کی آستین پہ رکھا ۔۔ایک ہاتھ اس کی گردن پہ۔۔ پھر وہ اپنا ہاتھ گھما کر اس کی پشت پہ لے گئی۔۔ ’ میں نے تمہیں اپنی گاڑی اور اپنی انگوٹھی دونوں دے دیں۔‘ وہ کہنے لگی۔۔’ اب کیا چاہتے ہو ؟۔کیسے قرار آئے گا تمہیں؟‘ للی نے بوسہ لینے میں پہل کی۔۔ وہ دونوں وہیں غار کے سخت فرش پہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے ۔۔ہینری جواباً اسے چومنے لگا۔ ہم کہیں پرسکون مقام بھی جا سکتے ہیں۔‘ للی بولی۔۔’ نہیں۔‘ ہینری نے جواب دیا۔۔’ یہ سب یہیں ہونا ہے ۔۔ ‘ انھوں نے اپنے کپڑے اتار کر جگہ نرم کرنے کے لئے نیچے بچھا لئے ۔۔ پہاڑی کا سایہ ان پہ لمبا ہو گیا۔۔ جپ نے ایک یا دو بار آواز نکالی اور پھر مناسب فاصلے پہ جا کے سو گیا۔ للی پوری طرح آسودہ نہ ہو پا رہی تھی۔۔ اس نے ہینری کو پورا موقع دیا ۔۔ للی نے اس کے چہرے کو چھوا اور اس کا ہاتھ چوم لیا۔۔ ’ تمہارے باپ نے بھی کیا کمال کیا ہے! ۔۔‘ وہ بولی ۔۔اور یہ کہتے ہوئے وہ اس کے برابر لیٹی جتنا قریب آ سکتی تھی چلی آئی اور خود کو اس پہ جھکا کے بولی ۔۔ ’ کیا کمال انداز ہے تمہارا ۔۔‘ ہینری کا بازو اس کی کمر کے نیچے تھا۔ اس نے للی کو اسی بازو سے اوپر اٹھایا اور اپنے بالکل اوپر لے آیا۔۔ اب للی کا رخ نیچے کی طرف تھا۔ہینری نے اس کے بالوں میں ہاتھ گاڑ دیئے اور اس کا چہرہ اپنے چہرے کے قریب کر لیا اور پھر اپنا منہ اس کے منہ پہ رکھ دیا۔۔ پھر اس نے اختیار للی کو سونپ دیا۔۔اور اس کے چہرے پہ پڑتے بالوں کو اپنے ہاتھوں سے ہٹاتے ہوئے اسے گہری نظروں سے دیکھنے لگا ۔۔ ’ تم بے حد حسین ہو۔۔‘ وہ بولا۔۔ للی کے اندر کوئی شے جیسے ٹوٹ گئی۔ ’ کیا واقعی؟‘ ۔۔ اسے ڈر لگنے لگا کیونکہ وہ اس پہ یقین کرنے پہ آمادہ تھی۔۔ اس بات کا یقین کہ وہ اس سے محبت کرنے لگا تھا۔خواہ وہ کیسی بھی تھی۔ ’ ناقابل یقین حد تک حسین‘ ۔۔ ’کیا واقعی میں حسین ہوں؟ ‘۔۔ایسا کوئی لفظ نہ کہنا جو دل سے نہ کہہ سکو۔۔ للی نے خاموشی کی زبان میں اس سے کہا۔۔وہ بات کرنے سے خائف تھی اور بس رو دینے کو تھی۔۔ مجھ میں اس چیز کی طلب نہ جگانا ، جو مجھے نہ دے سکو۔۔ پلیز۔۔ جو کہنا، احتیاط سے کہنا۔ ’ ناقابل یقین حد تک حسین۔۔‘ وہ اس کے جسم میں ایک بار پھر حرکت پذیر تھا۔۔ ’
بے حد حسین۔‘ وہ اس کا چہرہ دیکھنے لگا۔۔ ’بہت خوبصورت ۔‘ وہ اس کی چھاتیوں کو چھونے لگا ۔۔اس نے آنکھیں بند کر لیں اور اپنا منہ ان گولائیوں پہ ٹکا دیا ۔۔ اس کا جسم اس تیزی سے جھٹکے کھا رہا تھا کہ للی کو لگا وہ پاش پاش ہو جائے گا۔۔ للی نے اسے اپنے ہاتھوں سے تھامے رکھا اور جب تک وہ رک نہ گیا وہ اسے چومتی رہی ۔۔اور رکنے پر ایک بار پھر چوم لیا۔
’ میں تمہارا دل نہیں توڑنا چاہتا ـ‘۔۔۔ہینری بولا
اس بات سے للی کو ایک دھچکا لگا گویا کسی نے اسے تھپڑ دے مارا ہو۔ تو گویا وہ ایک ایسی عورت تھی جسے کوئی مرد ایسے الفاظ کہے۔۔ یوں بھی وہ ایک ایسے مرد سے کیا امید رکھ سکتی تھی جسے وہ ٹھیک سے جانتی بھی نہ تھی۔۔ اگر اس نے پہلے سوچا ہوتا تو یہی الفاظ وہ پہلے اسے کہہ پاتی۔۔اور وہی بہتر رہتا۔۔اس کے ساتھ جنسی تسکین سے زیادہ بے وقوفانہ حرکت اور کوئی ہو نہیں سکتی تھی۔۔ اس نے کیا سوچ کر ایسا کیا ۔۔ ’ مگر تمہارے بس میں ہو تو تم ایسا ضرور کرو گے‘ ۔۔للی نے بات ختم کی ۔۔ ’ہے نا؟ مگر فکر نہ کرو میں اس سب سے کوئی مطلب اخذ نہیں کروں گی۔۔ میں سمجھ گئی یہ سب کیا تھا۔۔‘ وہ اٹھ گئی اور کیتھرین کی جرسی پکڑنے لگی ۔۔ وہ سرد پڑ چکی تھی اور اب اسے ہینری کے قریب جانے سے خوف محسوس ہو رہا تھا۔۔اسے ٹھنڈ لگنے لگی تھی اور اب وہ برہنہ نہیں رہنا چاہ رہی تھی۔۔
’ لگتا ہے تم غصے میں ہو۔‘ ہینری بولا۔۔’ ایسا نہیں کہ میں تم سے محبت نہیں کر سکتا ۔۔ ایسا نہیں کہ مجھے تم سے محبت نہیں ۔۔۔ مرد نے ہمیشہ عورت کو مایوس ہی کیا ہے۔۔ شاید ہم بھی اس سے بچ نہیں سکتے ـ‘۔۔
’ فضول باتوں کی کوئی ضرورت نہیں۔۔‘ للی نے اسے سخت لہجے میں کہا۔۔ اس نے اپنا سر سرخ جرسی کے اندر ڈالا اور اسے نیچے کھینچ لیا۔۔’ مجھے تمہاری جنسی کارروائیوں کا پہلے سے پتہ کرنا چاہیے تھا پر میں نے ایسا اس لئے نہیں کیا کیونکہ اب اصول بدل چکے ہیں ۔‘
’ میرا گزشتہ دس برس سے کسی عورت سے کوئی تعلق نہیں ‘۔۔ ہینری بولا۔۔ للی نے اس کے چہرے کی طرف حیرانی سے دیکھا۔۔
’ اس سے پہلے پانچ برس رہا۔۔‘ وہ بولا۔۔’ اس سے پہلے تین برس۔۔ تب دو ایک ساتھ تھیں۔۔وہ ساٹھ کی دہائی تھی۔۔ اس سے پہلے پندرہ برس رہا۔۔ اس سے پہلے بیس ۔۔ اور دو۔۔اور دو۔۔ اور اس سے پہلے قریب قریب ایک صدی۔‘
للی کھڑی ہو گئی اور کیتھرین کی جینز پہننے لگی۔۔ ۔’ مجھے تمہاری نفسیاتی تاریخ بھی جاننا چاہئے تھی۔۔ ‘ وہ بولی ۔۔ وہ کپڑے پہننے میں جتنی جلدی کر رہی تھی، اسے اتنی ہی دشواری پیش آ رہی تھی۔۔اسے کیتھرین کی ایک جراب بھی نہیں مل رہی تھی ۔وہ شدید غصے میں تھی اور اسے ہینری کے کپڑوں میں تلاش کرنے سے خوف کھا رہی تھی۔۔اس نے جراب کے بغیر ہی کیتھرین کے جوتے پہن لئے ۔۔ ’ چلو جپ۔۔‘ اس نے آواز لگائی۔
’ اس سب کا کوئی خاص مقصد نہ تھا‘۔۔ ہینری نے اس سے کہا۔
’ ہاں نہیں تھا۔ بھول جاؤ سب۔۔‘ للی اپنا بیگ وہیں چھوڑ کے چلی آئی۔۔وہ تیز تیز قدموں سے چل رہی تھی۔۔ جپ اس کے پیچھے پیچھے رک رک کے چلتا رہا۔۔ انھوں نے پہاڑی سر کر لی۔۔
للی نے کئی بار پیچھے مڑ کے دیکھا کہ شاید ہینری آ رہا ہو ۔۔ مگر وہ کہیں نہ تھا۔۔ وہ پینٹنگ کے پاس سے بھی بغیر رکے گزر گئی۔۔ جپ اس کے آگے چلتا میٹی کے پچھلے آنگن کے گیٹ میں داخل ہو گیا۔
میٹی اور کیتھرین دونوں اس کا انتظار کر رہی تھیں۔۔ کیتھرین نے اپنی بانہیں آگے بڑھائیں۔۔ ’ تم غاروں میں گئی تھیں۔؟‘ کیتھرین نے پوچھا۔۔ ’گئی تھی نا۔۔میں دیکھ کے بتا سکتی ہوں۔۔‘
’ہاں نا۔۔گئی تھی۔۔ ‘ میٹی نے لقمہ دیا۔۔ اس نے للی کے بالوں کو چھو کر دیکھا ۔۔’ ہاں یہ یقیناً وہاں گئی تھی۔۔‘
للی بالکل ساکت کیتھرین کے بازو سے لگے کھڑی تھی۔۔ ’ اس سب بکواس کا کیا مطلب ہے؟‘ ۔وہ پوچھنے لگی۔۔ اس نے ان کو دھکیل کے پیچھے کیا اور دونوں عورتوں کو دیکھنے لگی۔۔ ’ تم نے مجھے وہاں بھیجا تھا ۔۔ہے نا ؟ ہاں تم نے۔۔ تم نے اور ایگن نے، اور شاید اس ایلیسن بیل نے بھی۔۔ غار دیکھنے جاؤ۔۔ غار دیکھنے جاؤ۔۔ جب سے یہاں آئی ہوں یہی سنے جا رہی ہوں۔۔ تم نے مجھے ایک باکرہ کی مقدس قربانی کی طرح تیار کیا۔۔ مجھے کپ کیک کھلا کے میری جان بنائی اور مجھے اس کے پاس بھیجا۔۔ مگر کیوں؟‘
’یہ ایک معجزہ ہے‘۔۔ میٹی بولی۔۔ ’تمہیں چنا گیا تھا۔ کیا تمہیں ایسا نہیں لگتا۔؟‘ ـ ’
’واہ۔۔ میں شراب خانے میں کسی مرد کو خود کو اپنا انتخاب کرنے دیتی ہوں ۔۔اور بعد میں پتہ چلتا ہے کہ وہ پاگل ہے۔۔‘ للی کی آواز بلند ہوتی گئی ۔۔’ اس میں معجزہ کیا ہے؟‘
’ تم ہینری کے ساتھ سو آئی ہو۔۔ـ‘ میٹی بولی۔۔’ ہینری نے تمہیں چنا۔۔ یہ معجزہ ہے۔‘
للی بھاگ کر سیڑھیاں چڑھی۔۔ اس نے کیتھرین کے کپڑے اتار پھینکے اور اپنے پہن لئے ۔۔ میٹی اوپر چلی آئی اور دروازے میں کھڑی ہو گئی ۔۔للی اس کے پیچھے سے گھوم کر کمرے سے نکل گئی۔
’ میری بات سنو، للی۔۔ ‘ میٹی بولی۔’ تم سمجھ نہیں رہی۔۔ اس نے تمہیں وہ سب دیا جو وہ کسی کو دے سکتا تھا۔۔ اسی وجہ سے اس پینٹنگ میں اس عورت کے ہاتھ خالی تھے۔۔مگر یہ دھوکہ اس کے لئے تھا ۔۔ اس کی سزا ہے یہ ۔۔ تمہاری نہیں۔۔ اگر تم اس کی سزا دیکھ لو تو تم اسے معاف کر دو گی۔۔ کیتھرین نے، اور ایلیسن نے، اور میں نے ، ہم سب نے اسے معاف کر دیا۔۔ میں جانتی ہوں تم بھی کر دو گی۔ اتنے پیار بھرے دل کی عورت ہو تم۔‘ ۔۔میٹی اس کے قریب آئی اور للی کی آستین پکڑ لی۔۔ ’یہیں رک جاؤ ہمارے پاس۔۔
اب تم کبھی اپنی پرانی زندگی میں لوٹ نہیں سکتی۔۔ تمہارے لئے ممکن نہیں ہو گا۔۔ تمہیں چن لیا گیا ہے۔‘
’ دیکھو۔‘ للی بولی۔۔اس نے گہری سانس بھری اور ہاتھوں سے اپنے آنسو پونچھے۔۔ ’ مجھے چنا نہیں گیا تھا۔۔ میرا شکار کیا گیا اور استعمال کے بعد مجھے رد کر دیا گیا۔ اس مرد نے جس کی عمر تیس کے آس پاس ہے ۔۔یہ وہ آدمی نہیں جس کے ساتھ تم سوئی تھی۔۔ہو سکتا ہے تم کسی خدا کے ساتھ سو کے آ رہی ہو۔۔ تم اپنے آپ کو یہی سمجھاتی رہو۔۔ کیا فرق پڑتا ہے؟ تمہیں بھی پھانسا گیا تھا اور پھر تمہیں بھی دھتکار دیا گیا۔۔‘
اس نے میٹی سے اپنا ہاتھ چھڑایا اور سیڑھیوں سے نیچے اتر گئی۔۔ اسے لگا کہ اسے روکا جائے گا ، مگر کسی نے نہیں روکا۔۔
دروازے پہ پہنچ کے وہ مڑی ۔۔ میٹی اس کے پیچھے ہی کھڑی تھی۔
۔۔ میٹی نے اس کے ہاتھ تھام لئے ۔۔للی نے سر کو جھٹکا۔۔ ’ میرا خیال میں تم انتہائی قابل رحم ہو۔۔اگر سچ کہوں تو۔۔ میں خود کو اس قدر دھوکے میں نہیں رکھ سکتی نہ ہی تمہاری خرافات مان سکتی ہوں۔۔ میں جانتی ہوں میں کیا ہوں۔۔ میں جا رہی ہوں اور واپس نہیں آؤنگی۔۔ میرا انتظار مت کرنا۔۔‘
اس کی گاڑی گھر کے سامنے کھڑی تھی، جہاں اس نے پہلی رات پارک کی تھی۔۔ وہ پورچ سے گزری۔۔ چابی گاڑی کے اندر لگی تھی۔۔ وہ بائیں مڑی۔۔ایک بار پھر بائیں۔۔ اس شراب خانے سے آگے نکل گئی جہاں اس وقت کھڑکی پہ اندھیرا چھایا ہوا تھا۔اور بڑی شاہراہ پہ چلی آئی۔۔ للی نے گاڑی کو اسّی سے کہیں زیادہ رفتار پہ دوڑایا مگر اب کی بار اسے کسی نے نہیں روکا ۔۔ پہاڑیاں تیزی سے گزرتی رہیں اور پھر وہ شہر میں تبدیل ہو گئیں۔۔ جب اسے احساس ہوا کہ وہ اس چھوٹے سے قصبے کی پاکباز عورتوں اور لافانی بلاؤں سے خاصی دور نکل آئی ہے اور اب محفوظ ہے ، جنھیں یہ بد دعا لگی ہوئی ہے کہ وہ صدیوں یونہی محبت کرنے والی عورتوں کے ساتھ بے مقصد جنسی عمل کی سزا پاتے رہیں گے ، اس نے اپنی رفتار آہستہ کر لی۔۔۔۔ اگر ان کے اعداد و شمار دیکھے جائیں تو ایسی عورتیں انتہائی کم تعداد میں ہیں ۔۔ وہ شام گہری ہونے سے پہلے گھر پہنچ گئی۔۔ جب وہ دروازے سے اندر داخل ہو رہی تھی تو اس نے غور کیا کہ شادی کی انگوٹھی اس کے ہاتھ میں تھی۔ ڈیوِڈ صوفے پہ بیٹھا کتاب پڑھ رہا تھا۔۔ ’ میں آ گئی ڈیوِڈ ‘ــ للی بولی۔۔ ’ میں آ گئی ۔۔ مجھے تیز رفتاری پہ ٹکٹ مل گیا تھا ۔۔۔ میں نے دیکھا ہی نہیں کتنے کا ہے۔۔۔ پوکر کھیلتے ہوئے میں اپنی انگوٹھی ہار گئی تھی۔ ۔۔ میں نے ایک مکان کرائے پہ لے لیا اور اسے واپس جیت لائی۔۔ انگوٹھی کے علاوہ بھی بہت سا نقصان ہو گیا ہے۔۔۔ مجھے خود اپنا ہوش ہی نہ رہا تھا۔۔ میرا دل بجھ گیا ہے۔ ۔۔۔ میں تو درحقیقت وہ عورت ہی نہیں رہی جیسی پہلے تھی۔۔ میں تمہیں سب سچ سچ بتانا چاہتی ہوں۔۔‘
’ مجھے خوشی ہے تم گھر لوٹ آئی۔۔‘ ڈیوِڈ نے کہا اور واپس اپنی کتاب میں گم ہو گیا ۔
مصنف:
کیرن (Karen Joy Fowler) چھ ناولوں کی مصنفہ ہیں جن میں سے ایک ناول ’سارہ کینری‘ نے کامن ویلتھ میڈل بھی حاصل کیا ۔ اور یوں وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والی کیلیفورنیا کی پہلی مصنفہ قرار پائیں۔۔ وہ جین آسٹن بُک کلب اور نیو یارک ٹائمز کی بیسٹ سیلر بھی رہیں۔۔ ان کے تینوں افسانوں کے مجموعات نے ورلڈ فینٹسی ایوارڈ حاصل کئے۔
اس کے علاوہ وہ تخلیقی ادب کا پین فالکنر ایوارڈ بھی حاصل کر چکی ہیں ۔
Original Title : Lily Red

0 Comments