✦ ✦ تلوار کا راز ✦ ✦

✦ ✦ تلوار کا راز ✦ ✦


سلطان محمد فاتح کی تلوار کو جب پانچ سو سال نکلی تو دنیا حیران ہوگئی 
 از: محمد ابوہریرہ


 قسطنطنیہ کی فتح کے بعد ۲۹ مئی ۱۴۵۳ء۔ وہ دن جب تاریخ نے اپنا رخ بدلا۔ سلطان محمد ثانی — جسے دنیا "فاتح" کے نام سے جانتی ہے — نے بازنطینی سلطنت کا خاتمہ کیا۔ قسطنطنیہ کی فصیلیں جو صدیوں سے ناقابل تسخیر سمجھی جاتی تھیں، عثمانی توپوں کے سامنے ڈھیر ہو گئیں۔ لیکن اس فتح کے بعد سلطان نے جو کیا، وہ تاریخ کے سنہری اوراق میں درج ہے۔ فاتح ایا صوفیہ میں داخل ہوئے۔ انہوں نے فاتحانہ انداز میں نہیں، بلکہ عاجزی کے ساتھ قدم رکھا۔ زمین پر بچھے قالین کو ہٹانے کا حکم دیا — "یہ مٹی میرے سے بہتر ہے، میں نے اس پر قدم نہیں رکھنا"۔ پھر انہوں نے اپنی مشہور تلوار نیام سے نکالی۔ وہ تلوار جس نے قسطنطنیہ کی دیواروں کو شگاف ڈال دیا تھا۔ وہ تلوار جس نے نئی سلطنت کی بنیاد رکھی۔ اور اس تلوار کو انہوں نے ایا صوفیہ کے محراب کے پاس رکھوایا۔
✦ ✦ تلوار کا راز ✦ ✦
✦ ✦ تلوار کا راز ✦ ✦



 "یہ تلوار امانت ہے،" انہوں نے کہا۔ "جب تک اللہ چاہے گا، یہ یہاں رہے گی۔" لیکن کون جانتا تھا کہ یہ امانت ۵۰۰ سال بعد دنیا کو حیران کر دے گی؟ ۱۹۸۸ء — استنبول وقت نے کروٹ بدلی۔ سلطنت عثمانیہ ماضی کا حصہ بن چکی تھی۔ ترکی نیا جمہوریہ تھا، مغرب کی طرف دیکھتا ہوا۔ مگر ایا صوفیہ عظمت کی علامت بنی ہوئی تھی — پہلے مسجد، پھر میوزیم۔ ۱۹۸۸ء کی بات ہے۔ ایا صوفیہ کی بحالی اور مرمت کا ایک بڑا منصوبہ شروع ہوا۔

ترک حکومت نے بین الاقوامی ماہرین کی ایک ٹیم بلوائی — اٹلی، فرانس، جرمنی اور ترکی کے نامور ماہرین آثار قدیمہ۔ ان کا کام ایا صوفیہ کی قدیم تزئین و آرائش کو بحال کرنا تھا۔ لیکن کام کے وقت ایک دن عجیب چیز ہوئی۔ تلوار کا غلاف ایا صوفیہ کے مرکزی محراب کے قریب، جہاں صدیوں سے قالین بچھے تھے، ماہرین کو ایک چھوٹا سے تہہ خانے جیسا حصہ ملا۔ اندر کیا تھا، کوئی نہیں جانتا تھا۔ مقامی مؤرخین نے بتایا کہ سلطان محمد فاتح کی تلوار یہاں رکھی گئی تھی۔ مگر کیا وہ اب بھی موجود ہے؟ کیا وقت کی دھول نے اسے کھا لیا تھا؟ تہہ خانے کا دروازہ کھولا گیا۔ اندر صدیوں کی گرد جمی ہوئی تھی۔ دیواروں پر عثمانی خطاطی کے نمونے تھے۔ فرش پر پرانے قالین بچھے تھے۔ اور بیچوں بیچ — ایک صندوق۔ مہوگنی کی لکڑی کا بنا ہوا، جس پر چاندی کے کام کی تہہ جمی ہوئی تھی۔ صندوق کے اوپر عثمانی ترکی میں لکھا تھا: "امانتِ فاتح — فتح کی تلوار" صندوق کھلا جرمن ماہر ڈاکٹر ہانس ویبر نے صندوق کھولنے کی ذمہ داری لی۔ ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے — یہ صرف ایک تلوار نہیں تھی، یہ تاریخ کا ایک ٹکڑا تھا۔ صندوق کا ڈھکن اٹھایا گیا۔ اندر مخمل کا ایک غلاف تھا، جس پر سنہری دھاگوں سے کڑھائی کی گئی تھی۔ غلاف کے اوپر ترکی میں لکھا تھا: "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ" غلاف کو آہستہ سے ہٹایا گیا۔

97% اور پھر وہ ہوا جس کی کسی کو توقع نہیں تھی۔ تلوار نے چمک دکھائی غلاف ہٹتے ہی کمرے میں ایک چمک دوڑ گئی۔ تلوار بالکل نئی تھی۔ ۵۳۰ سال گزر چکے تھے۔ سلطانیں آئیں اور گئیں، جنگیں ہوئیں اور ختم ہوئیں، لیکن یہ تلوار ویسی ہی تھی جیسی سلطان محمد فاتح نے آخری بار استعمال کی تھی۔ دھات پر زنگ کا ایک ذرہ بھی نہیں تھا۔ دستے پر لگے جواہرات اسی طرح چمک رہے تھے جیسے ابھی تراشے گئے ہوں۔ تلوار کی دھار ابھی تک تیز تھی — گویا ابھی کل ہی کسی جنگ میں استعمال ہوئی ہو۔ ڈاکٹر ویبر کی آنکھیں پھیل گئیں۔ "یہ سائنسی طور پر ناممکن ہے!"اس نے چیخ ماری۔ "یہ کیسے ہوسکتا ہے سٹیل کی تلوار کو پانچ سو سال تک زنگ نہ لگے؟

" اطالوی ماہر مارکو روسی نے تلوار کو قریب سے دیکھا۔ انہوں نے دستے پر ایک تحریر دیکھی — عربی زبان میں لکھی ہوئی۔ "اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا" (بیشک ہم نے آپ کو کھلی فتح دی) کمرے میں سناٹا وہاں موجود ماہرین حیران تھے۔ کسی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ ایک ترک مؤرخ، پروفیسر احمد یلماز، آگے بڑھے۔ ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ "یہ تلوار صرف دھات کا ایک ٹکڑا نہیں ہے،" انہوں نے کہا۔ "یہ اس جوان سلطان کی نشانی ہے جس نے حدیث نبوی ﷺ کی تکمیل کی۔ جس نے ۲۱ سال کی عمر میں وہ کام کر دکھایا جو صدیوں سے کوئی نہیں کر سکا تھا۔" پھر پروفیسر یلماز نے گھٹنے ٹیک دیے۔ انہوں نے تلوار کے غلاف کو چوما۔ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔

 سائنس خاموش، عقیدت گویا فرانسیسی ماہر پیری لارنٹ، جو ایک ملحد تھے، یہ منظر دیکھ کر رک گئے۔ انہوں نے بعد میں اپنی ڈائری میں لکھا: "میں تمام عمر سائنس پڑھتا آیا ہوں۔ مادی ثبوت جمع کیے ہیں لیکن آیا صوفیہ میں جو دیکھا اس نے میرے تمام نظریے بدل دیے ہیں۔ ۵۳۰ سال پرانی تلوار — زنگ سے پاک، بالکل نئی۔ کوئی سائنسدان اس کی وضاحت نہیں کر سکتا۔" انہوں نے مزید لکھا: "پروفیسر یلماز نے جب تلوار کو چوما، تو میں نے سوچا کہ یہ محض ایک جذباتی حرکت ہے۔ لیکن جب میں نے خود اس تلوار کے پاس کھڑے ہو کر محسوس کیا — وہ سکون، وہ خوف، وہ عظمت — تو میں سمجھ گیا کہ یہ محض دھات نہیں، یہ کچھ اور ہے۔" تلوار کی حقیقت بعد میں تحقیقات ہوئیں۔ ماہرین نے ٹیسٹ کیے۔ تلوار پر موجود دھات کی ساخت بالکل ویسی تھی جیسی ۱۵ویں صدی میں استعمال ہوتی تھی۔ کاربن ڈیٹنگ نے تصدیق کی کہ یہ تلوار واقعی سلطان محمد فاتح کے دور کی ہے۔ لیکن سوال ابھی تک وہی تھا — زنگ کیوں نہیں لگا؟ کچھ نے کہا کہ شاید غلاف میں کوئی خاص کیمیائی مادہ تھا۔ مگر غلاف بھی تو صدیوں پرانا تھا، اس پر بھی وقت کا اثر ہوا تھا۔ پروفیسر یلماز نے وضاحت دی: "یہ تلوار اس جوان کی امانت تھی جس نے حدیث نبوی کی تکمیل کی۔

 رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ قسطنطنیہ فتح کرنے والا بہترین امیر ہے اور اس کے لشکر بہترین لشکر ہیں۔

 اللہ نے اپنے نبی کی اس حدیث کی حرمت کی خاطر اس تلوار کی حفاظت کا انتظام کیا۔" آج کی تلوار آج سلطان محمد فاتح کی یہ تلوار استنبول کے توپ کاپی میوزیم میں رکھی گئی ہے۔ لاکھوں سیاح ہر سال اسے دیکھتے ہیں۔ مگر جو لوگ قریب سے دیکھتے ہیں، وہ بتاتے ہیں کہ تلوار میں ایک عجیب سا نور ہے۔ اور جب بھی کوئی اس تلوار کے سامنے کھڑا ہو کر فاتح کی فتح کو یاد کرتا ہے، اسے محسوس ہوتا ہے کہ وہ وقت کی قید سے باہر نکل گیا ہے۔ وہ آخری منظر ۱۹۸۸ء کے اس دن ایا صوفیہ میں جو کچھ ہوا، اس کا اختتام بھی عجیب تھا۔ تلوار دوبارہ غلاف میں رکھی گئی۔ صندوق بند کیا گیا۔ لیکن اس سے پہلے پروفیسر یلماز نے ایک آخری درخواست کی۔ "اجازت دیجیے، میں اس تلوار کے سامنے دو رکعت نفل پڑھ لوں۔" حکام نے اجازت دے دی۔ پروفیسر یلماز نے وہیں، تلوار کے سامنے، قبلہ رخ کیا اور نماز پڑھی۔ ان کے پیچھے — ڈاکٹر ویبر، مارکو روسی، پیری لارنٹ، اور باقی ماہرین — سب خاموش کھڑے رہے۔ کسی کو بولنے کی ہمت نہیں تھی۔

 کیونکہ وہ سب جانتے تھے کہ وہ ایک ایسے لمحے کے گواہ ہیں جہاں تاریخ، ایمان اور سائنس ایک دوسرے سے مل گئے تھے۔ پروفیسر یلماز نے جب سجدے میں سر رکھا، تو ان کے آنسو فرش پر گرے۔ وہی فرش جہاں ساڑھے تین سو سال پہلے سلطان محمد فاتح نے اپنی تلوار رکھی تھی۔ وہی جہاں اب وہ شمشیر واپس آئی تھی۔ --- خلاصہ: سلطان محمد فاتح — وہ نوجوان سلطان جس نے ۲۱ سال کی عمر میں دنیا کی سب سے مضبوط فصیلیں ڈھا دیں۔ جس نے اپنے لشکر سے کہا کہ "قسطنطنیہ کی فصیلیں تمہارے عزم سے کمزور ہیں"۔ جس نے فتح کے بعد عاجزی کا ایسا مظاہرہ کیا کہ تاریخ حیران رہ گئی۔ اور اس کی تلوار — وہ تلوار جو ساڑھے تین سو سال بعد بھی ویسی ہی تازہ ہے جیسی اس نے آخری بار استعمال کی تھی۔ اللہ اپنے نیک بندوں کی نشانیوں کی حفاظت کرتا ہے۔ اور سلطان محمد فاتح کی تلوار اس حفاظت کی زندہ مثال ہے۔

Post a Comment

0 Comments