خوبصورت بدوی عورت

خوبصورت بدوی عورت 



ایک بدوی شخص نے اپنی ہی قبیلے کی ایک لڑکی سے شادی کی، جو خوش اخلاق، باادب، پاکدامن اور دیندار تھی۔ شادی کے ایک سال بعد اس شخص کا اپنے ایک چچازاد سے سخت جھگڑا ہو گیا، جس کے نتیجے میں اس شخص کا قتل ہو گیا۔ قبیلے کے رواج کے مطابق، شوہر کو اپنا علاقہ چھوڑنا پڑا۔ اپنی بیگم کو لے کر وہ شخص دوسرے قبیلے کے پاس چلا گیا۔

نئے قبیلے میں بدوی مرد اکثر قبیلے کے سردار کی مجلس میں آتے، جہاں باتیں ہوتیں اور قبائلی امور پر مشورے کیے جاتے۔ وہ بدوی بھی انہی میں شامل ہو گیا۔ ایک دن سردار کا گزر بدو کے گھر کے قریب سے ہوا۔ اس نے بدو کی بیگم کو اچانک دیکھ لیا۔ اس کے حسن نے سردار کا دل و دماغ اپنے قبضے میں لے لیا، اور اس کے دل میں ایک شیطانی خیال آیا: کسی طرح شوہر کو گھر سے دور کر دیا جائے تاکہ وہ اکیلی عورت کے قریب جا سکے۔
خوبصورت بدوی عورت
خوبصورت بدوی عورت


 سردار مجلس میں آیا، جہاں بدوی بھی موجود تھا، اور سب کے سامنے کہا: “مجھے خبر ملی ہے کہ قریب ہی کچھ علاقے ہیں جہاں بہار آ چکی ہے، میں چاہتا ہوں کہ وہاں چار آدمی بھیجے جائیں تاکہ تصدیق کریں۔ اس نے چار آدمی منتخب کیے، جن میں بدوی بھی شامل تھا۔ ان علاقوں کا سفر تین دن کا تھا۔ سفر کی رات، جب اندھیرا چھا چکا اور لوگ سو چکے، سردار بدوی کے گھر کی طرف روانہ ہوا، جہاں عورت اکیلی سو رہی تھی۔ جیسے ہی وہ دروازے کے قریب پہنچا، ایک ستون سے ٹکرا گیا، جس کی آواز سے عورت جاگ گئی۔ اس نے خوف سے کہا: کون ہے؟ سردار بولا: میں وہ سردار ہوں، جس کے قبیلے میں تم آ کر بسے ہو۔ خوش آمدید عورت نے کہا اس وقت تم کیسے آ گئے؟ سردار بولا میں تمہارے حسن کا اس دن سے گرویدہ ہوں جب تمہیں پہلی بار دیکھا، اور اب تمہارے قرب کی خواہش ہے۔

 عورت نے پُرسکون انداز میں اور پختہ لہجے میں کہا: مجھے کوئی اعتراض نہیں، لیکن ایک شرط ہے: ایک پہیلی ہے، اگر تم نے حل کر لی تو تمہیں وہ ملے گا جو تم چاہتے ہو۔ سردار نے خوشی سے کہا: جو شرط بتاؤ، میں قبول کرتا ہوں! عورت نے کہا: جب گوشت خراب ہونے کا خدشہ ہو، تو اس پر نمک چھڑکا جاتا ہے۔ لیکن اگر نمک خود خراب ہو جائے، تو اسے کون درست کرے گا؟ پھر کہا: تم جس سے چاہو مدد لے سکتے ہو، اگر تم نے جواب لا کر دیا تو تمہاری خواہش پوری ہو گی۔ سردار اپنی رہائش پر واپس گیا، حیران اور پریشان۔ پوری رات سوچتا رہا مگر جواب نہ سوجھا۔ اگلے دن مجلس میں اس نے بلند آواز میں کہا: جب گوشت خراب ہونے لگے تو اس پر نمک چھڑکا جاتا ہے، لیکن اگر نمک ہی خراب ہو جائے تو اسے کون سنوارے؟ لوگوں نے مختلف جوابات دیے، لیکن کوئی بھی جواب سردار کو مطمئن نہ کر سکا۔ ان میں ایک عقلمند، صاحبِ علم، دیندار شخص بیٹھا تھا جو خاموش رہا۔ جب سب لوگ چلے گئے، وہ شخص وہیں بیٹھا رہا سردار نے غصے سے کہا: تم نے میرے سوال کا جواب کیوں نہیں دیا؟ اس نے نرمی سے کہا: میں تنہائی میں آپ سے بات کرنا چاہتا تھا۔

یہ پہیلی دراصل امام سفیان الثوری کے ایک شعر کا مصرع ہے: “اے علم والو! تم نمک ہو اس زمین کے… اگر نمک ہی خراب ہو جائے تو اسے کون درست کرے؟ مجھے لگتا ہے – واللہ اعلم – کہ آپ نے ایک دیندار اور باعفت عورت کو برے ارادے سے بہکانا چاہا، اور اس نے آپ کو عزت کے ساتھ روک دیا، بغیر آپ کو رسوا کیے۔ اس نے اپنی عزت، شوہر اور آپ کی پوزیشن کو بچایا اور اس پہیلی کے ذریعے آپ کو شرمندگی سے بچاتے ہوئے آپ کو راہِ راست دکھانا چاہا۔ عورت کا مطلب تھا کہ قبیلے کے مرد نمک کی مانند ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی بگڑ جائے تو سردار اسے درست کرتا ہے۔ لیکن اگر سردار ہی بگڑ جائے تو اسے کون سدھارے؟ آپ کو نمونہ بننا چاہیے تھا۔ اگر رہنما ہی فاسد ہو جائے تو پیچھے چلنے والے بھی برباد ہو جاتے ہیں۔ عورت نے جو کیا وہ کمزوری نہیں، بلکہ حکمت، سمجھداری اور غیرت و عزت کی علامت ہے۔ سردار نے جب یہ سنا تو اس کا دل لرز گیا۔ وہ شرمندہ ہوا، اپنے عمل پر پچھتایا اور کہا: تم نے اصل بات کہی ہے۔ میری غلطی پر پردہ ڈال دو، اللہ تم پر دنیا و آخرت میں پردہ ڈالے۔ *

📌پیغامِ حکایت:* عقلمندوں کی مجلس اختیار کرو، بے وقوفوں کی نہیں۔ کیونکہ عقلمند بڑے ہوتے ہیں، اور ایک عقلمند کی بات ہزار شیطانوں کو روک سکتی ہے۔

Post a Comment

0 Comments