ایک فارسی غزل کا اردو ترجمہ
درین بہار دلنشین کہ گشتہ خاک عنبرین"
اس خوشگوار بہار میں، جہاں مٹی کی خوشبو عنبر کی سی خوشبو بن گئی ہو۔
"ز من ربوده عقل و دین نگاری از نگارها"
میرے دل و دماغ کو اس نے اس قدر مسخر کر لیا ہے کہ میں اپنے عقل و ایمان کو بھول چکا ہوں، اور یہ سب اس کے جمال کی تصویر کی وجہ سے ہے۔
"رفیق جو شفیق خو عقیق لب شفیق رو"
وہ رفیق جو شفیق دل کا مالک ہو، اس کی مسکراہٹ اور لبوں کی مٹھاس اس کی خوبیوں کا عکاس ہیں۔
"رقیق دل دقیق مو چه مو ز مشک تارها"
دل میں نرمی اور نرم مزاجی ہے، جیسے اس کے بال مشک کی خوشبو میں ڈوبے ہوں۔
"به طره کرده تعبیه هزار طبله غالیه"
اس کے بالوں میں اتنی جاذبیت اور خوبصورتی ہے کہ جیسے ان میں ہزاروں خوشبو والے خوشبو دار پھول سجے ہوں۔
"به مژه بسته عاریه برنده ذوالفقارها"
اس کی پلکیں چُھپی ہوئی تلواروں کی طرح تیز اور جاذب نظر ہیں۔
"مهی دو هفت سال او سواد دیده خال او"
اس کے چہرے پر چاند کی سی روشنی ہے، اور اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی دلکشی ہے۔
"شکفته از جمال او بهشتها بهارها"
اس کی خوبصورتی سے جنتیں اور بہاریں کھل اُٹھتی ہیں۔
"دوکوزه شهد در لبش دو چهره ماه نخشبش"
اس کے لبوں پر شہد کی دو بوتلیں رکھی ہوئی ہیں، اور اس کا چہرہ چاند کی مانند چمکتا ہے۔
"نهفته زلف چون شبش به تارها تتارها"
اس کے زلفوں کی تاریں رات کی تاریکی کی طرح پوشیدہ ہیں۔
"سهیل حسن چهر او دو چشم من سپهر او"
اس کے حسن کا ستارہ، اس کا چہرہ، اور میری آنکھوں میں اُس کا منظر ایک آسمان کی مانند ہے۔
"مدام مست مهر او نبیدها عقارها"
اس کے جمال کے نشے میں ہم ہمیشہ محو ہیں، جیسے شراب کے نشے میں محو رہنا۔
"چگویمتکهدوش چونبهناز وغمزهشدبرون"
میں تم سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کل رات جب وہ ناز و غم سے باہر آئی۔
"به حجره آمد اندرون به طرز میگسارها"
وہ کمرے میں آئی اور میخواروں کے طرز پر خوشبوئیں بکھیر گئی۔
"بهکف بطی ز سرخ میکهگر ازو چکد به نی"
اس کے ہاتھ میں ایک بوتل تھی جس سے سرخ شراب ٹپک رہی تھی، اور اس کے ذریعے ایک اور دوزخ کی لذت محسوس ہو رہی تھی۔
"همی ز بند بند وی برون جهد شرارها"
وہ مجھ پر اپنا سحر طاری کرتی ہے اور دل میں ایک آگ سی لگا دیتی ہے۔
"دونده در دماغ و سر جهنده در دل و جگر"
میرے دماغ میں وہ دوڑ رہی ہے، اور دل و جگر میں اس کا عکس موجود ہے۔
"چنانکه برجهد شرر به خشک ریشه خارها"
وہ کچھ اس شدت سے میرے دل میں بس چکی ہے کہ جیسے خشک جڑوں میں آگ لگ جاتی ہے۔
یہ اشعار ایک انتہائی لطیف اور جذباتی انداز میں محبت، جمال اور عشق کی شدت کو بیان کرتے ہیں۔ ان اشعار میں جو استعارے استعمال ہوئے ہیں، وہ واقعی انسان کے دل و دماغ میں محبت کی شدت کو اُجاگر کرتے ہیں۔

0 Comments