بوڑھا گدھا

بوڑھا گدھا

 


جرمنی کے ایک گاؤں میں ایک بوڑھا گدھا رہتا تھا۔ اس نے ساری زندگی اپنے مالک کے لیے بوریاں ڈھوئیں، چکیاں گھمائیں، سامان اٹھایا۔ اب وہ بوڑھا ہو چکا تھا، اس کی پیٹھ جھک گئی تھی، اس کی ٹانگیں کانپنے لگی تھیں۔

 اسے خیال آیا: "اب یہ کسی کام کا نہیں۔" وہ اپنے غلام سے کہتا ہے: "تم اسے جنگل میں چھوڑ آنا۔" گدھے نے یہ سنا تو وہ راتوں رات وہاں سے بھاگ گیا۔ وہ چلتا رہا، چلتا رہا۔ اس نے سوچا: "میں بریمن شہر جاؤں گا۔ وہاں باجے بجاتا ہوں، موسیقار بن جاتا ہوں۔" راستے میں اسے ایک کتا ملا۔ کتا درخت کے نیچے بیٹھا تھا، اس کی زبان باہر نکلی ہوئی تھی، وہ ہانپ رہا تھا۔ گدھے نے پوچھا: "کتے بھائی! تم اتنے اداس کیوں ہو؟" کتا بولا: "میں بوڑھا ہو گیا ہوں۔ میں پہلے شکار پر جاتا تھا، اب میں نہیں بھاگ سکتا۔ مالک مجھے مارنے والا تھا، میں بھاگ آیا۔ اب کیا کروں؟"
بوڑھا گدھا
بوڑھا گدھا


 گدھے نے کہا: "میرے ساتھ بریمن چلو۔ ہم وہاں موسیقار بنیں گے۔ تم ڈھول بجانا، میں باجا بجاؤں گا۔" کتا مان گیا۔ وہ دونوں چل پڑے۔ تھوڑی دور گئے تو انہیں ایک بلی ملی۔ بلی سڑک کے کنارے بیٹھی تھی، اس کا منہ اداس تھا۔ گدھے نے پوچھا: "بلی بہن! تم کیوں اُداس ہو؟" بلی بولی: "میں بوڑھی ہو گئی ہوں۔ میرے دانت نہیں رہے، میں چوہے نہیں پکڑ سکتی۔ مالک مجھے ڈبونے والا تھا، میں بھاگ آئی۔" گدھے نے کہا: "میرے ساتھ بریمن چلو۔ ہم موسیقار بنیں گے۔ تم گانا گانا، میں باجا بجاؤں گا، کتا ڈھول بجائے گا۔" بلی مان گئی۔ وہ تینوں چل پڑے۔ تھوڑی دور گئے تو انہیں ایک مرغا ملا۔ مرغا ایک درخت کی چوٹی پر بیٹھا تھا اور پوری طاقت سے چلا رہا تھا۔ گدھے نے پوچھا: 

"مرغے بھائی! تم اتنا کیوں چلا رہے ہو؟" مرغا بولا: "کل میری باری ہے۔ مالک نے کہا ہے کہ کل مہمان آ رہے ہیں، وہ مجھے پکا کر کھلائیں گے۔ میں آخری بار چلا رہا ہوں۔" گدھے نے کہا: "ہمارے ساتھ بریمن چلو۔ ہم موسیقار بنیں گے۔ تم صبح سویرے گانا گانا، لوگ جاگیں گے۔" مرغا مان گیا۔ وہ چاروں چل پڑے۔ شام ہو گئی۔ وہ جنگل میں پہنچے۔ دور سے انہیں ایک جھونپڑی میں روشنی نظر آئی۔ گدھے نے کہا: "چلو، وہاں رات گزارتے ہیں۔" وہ جھونپڑی کے قریب پہنچے۔ گدھا سب سے لمبا تھا، اس نے کھڑکی سے جھانکا۔ اس نے دیکھا — اندر ڈاکو بیٹھے تھے۔ میز پر سونا تھا، چاندی تھی، کھانا تھا، شراب تھی۔ چاروں نے سوچا: "یہ ڈاکو ہیں۔ ہمیں انہیں ڈرانا چاہیے۔" گدھا کھڑکی کے نیچے کھڑا ہو گیا۔ کتا اس کی پیٹھ پر چڑھ گیا۔ بلی کتے کی پیٹھ پر چڑھ گئی۔ مرغا بلی کی پیٹھ پر چڑھ گیا۔ گدھے نے زور سے دھاڑا۔ کتے نے بھونکا۔ بلی نے میاؤں کیا۔ مرغے نے بانگ دی۔ چاروں کی آواز ایک ساتھ گونجی۔ پھر وہ کھڑکی توڑ کر اندر گر گئے۔ ڈاکو ڈر گئے۔ انہوں نے سوچا: "بھوت آ گئے!" دوڑ کر وہ جنگل میں جاچھپے۔ چاروں نے سارا کھانا کھایا، سونا چاندی جمع کیا، اور آرام سے سو گئے۔

 آدھی رات کو ایک ڈاکو واپس آیا۔ اس نے سوچا: "دیکھتا ہوں کون تھا۔" وہ اندھیرے میں اندر گیا۔ اس کا ہاتھ بلی پر لگا۔ بلی نے اس کے منہ پر پنجہ مارا۔ اس نے چیخ کر ہاتھ کھینچا تو کتے نے اس کی ٹانگ کاٹ لی۔ وہ بھاگا تو گدھے نے اسے لات ماری۔ مرغے نے اوپر سے بانگ دی: "کوکوڑی کووو!" ڈاکو بھاگ کر جنگل میں گیا۔ اس نے دوسرے ڈاکوؤں سے کہا: "وہاں ایک بہت بڑی چڑیل ہے، اس نے میرے منہ پر پنجہ مارا۔ ایک آدمی تھا جس نے میری ٹانگ کاٹ دی۔ ایک بہت بڑا راکشس تھا جس نے مجھے لات ماری۔ اور اوپر سے ایک جج تھا جو چلا رہا تھا: 'چور کو پکڑو!'" وہ ڈاکو کبھی بی اس جھونپڑی کی طرف نہیں آئے۔ چاروں دوست وہیں رہ گئے۔ وہ بریمن نہیں گئے۔ انہوں نے وہی گھر بنا لیا۔ 

گدھا، کتا، بلی، مرغا سب خوشی سے رہنے لگے۔ لوگ دور سے ان کی گائیکی سماعت کرتے اور کہتے: "یہ بریمن کے گائیک ہیں!"

 اخلاقی سبق: یہ کہانی ہمیں چار بڑے سبق دیتی ہے:
1. کسی کو بے کار نہ سمجھو بوڑھے گدھے، کتے، بلی، مرغے کو مالکوں نے پھینک دیا، لیکن انہوں نے مل کر ایسا کام کیا جو کوئی اکیلا نہ کر سکتا تھا۔
2. اتحاد میں طاقت ہے چار کمزور جانور مل کر طاقتور ڈاکوؤں کو بھگا سکتے تھے۔
3. ہمت کبھی نہ ہارو ہر ایک نے مشکلات کے باوجود آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔
 4. ہر کسی کی اپنی اہمیت ہے گدھے کی طاقت، کتے کے دانت، بلی کے پنجے، مرغے کی آواز سب مل کر کامیاب ہوئے۔

حوالہ:   یہ کہانی برادران گریم (Jacob and Wilhelm Grimm) کی مشہور کہانیوں میں سے ہے۔ اس کا عنوان "The Town Musicians of Bremen" (بریمن کے موسیقار) ہے۔ برادران گریم نے 19ویں صدی میں جرمنی کی لوک کہانیوں کو جمع کیا۔ ان کی کتاب "Grimm's Fairy Tales" (گریم کی پریوں کی کہانیاں) دنیا کی سب سے مشہور کہانیوں کے مجموعوں میں سے ہے۔ یہ کہانی دوستی، اتحاد، اور ایک نئی شروعات کی علامت بن گئی ہے۔

 جرمنی کے شہر بریمن میں ان چاروں جانوروں کا ایک مشہور مجسمہ بھی موجود ہے۔♣️

Post a Comment

0 Comments